امریکا کے ساتھ جنگ اب ’ناگزیر‘ ہے، شمالی کوریا | حالات حاضرہ | DW | 07.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا کے ساتھ جنگ اب ’ناگزیر‘ ہے، شمالی کوریا

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں امریکا کے ساتھ جنگ اب ناگزیر ہو چکی ہے اور اب جنگ کا معاملہ ’کیا‘ کی بجائے ’کب‘ تک پہنچ چکا ہے۔

پیونگ یانگ کے مطابق جزیرہ نما کوریا میں جنگ چھڑنے کے امکانات اب واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے خطے میں امریکا اور جنوبی کوریا کی بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی فوجی مشقوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب امریکا کے ساتھ جنگ یقینی ہوتی جا رہی ہے۔

امریکا کا عالمی غلبہ اب تاریخ بنتا جا رہا ہے، جرمنی

جرمنوں کی نظر میں ٹرمپ شمالی کوریا اور روس سے زیادہ بڑا خطرہ

خطے میں جنگ کے ناگزیر ہونے سے متعلق یہ بیان شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ اس ترجمان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم پیونگ یانگ کے مطابق حالیہ عرصے کے دوران سی آئی اے کے ڈائریکٹر سمیت اعلیٰ امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیانات سے واضح ہے کہ امریکا شمالی کوریا کے ساتھ جنگ کرنے کی نیت رکھتا ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پائی جانے والی شدید کشیدہ صورت حال سے بے خبر ہیں۔ پومپیو کے اس بیان کے جواب میں شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے اس ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے شمالی کوریا کے ’عوام کے دلوں میں رہنے والے سپریم لیڈر کے خلاف بیانات دے کر غصہ دلایا جا رہا ہے‘۔

شمالی کوریائی وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا، ’’اب سوال یہ باقی ہے کہ جنگ کب شروع ہو گی۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم اس سے منہ بھی نہیں موڑیں گے اور اگر امریکا نے ہماری صلاحیتوں کا غلط اندازہ لگا کر ایک ایٹمی جنگ کا خطرہ مول لیا تو ہم اپنی مستقل مضبوط ہوتی ہوئی ایٹمی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر یقینی بنائیں گے کہ امریکا کو اس جنگ کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔‘‘

شمالی کوریا کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب امریکا اور جنوبی کوریا کی فوجیں مشترکہ مشقیں کر رہی ہیں۔ اس بیان سے محض ایک گھنٹہ قبل ہی امریکا کے بی ون بی جنگی سپر سونک طیاروں نے جنوبی کوریا کی فضا میں پرواز کی تھی۔

فوجی مشقوں سے متعلق جنوبی کوریا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’ان مشقوں کا مقصد شمالی کوریا پر واضح کرنا ہے کہ اگر اس نے ایٹمی ہتھیار یا میزائل استعمال کرنے کی کوشش کی تو امریکا اور جنوبی کوریا اسے شدید سزا دینے کی نیت اور بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر میک ماسٹر نے بھی کہا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ جنگ کے امکانات میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔

شمالی کوریا: سلامتی کونسل کی قراردار کی ایک اور خلاف ورزی

شمالی کوریا دہشت گردی اسپانسر کرنے والی ریاست ہے، امریکا

DW.COM

اشتہار