امریکا: دہائیوں بعد جوہری تجربہ کرنے پر غور، رپورٹ | حالات حاضرہ | DW | 23.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا: دہائیوں بعد جوہری تجربہ کرنے پر غور، رپورٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس امر پر غور کیا ہے کہ نیا جوہری تجربہ کرنا چاہیے یا نہیں۔ امریکا نے اپنا آخری جوہری تجربہ سن 1992 میں کیا تھا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین اور روس کی طرف سے ہلکی نوعیت کے جوہری ٹیسٹ کرنے کے بعد امریکی سیاستدانوں میں بھی اس حوالے سے غور کیا جا رہا ہے کہ آیا امریکا کو ایک مرتبہ پھر کسی جوہری تجربہ کرنا چاہیے؟

ایک رپورٹ میں اس امریکی اخبار نے لکھا کہ پندرہ مئی کو ہونے والی ٹرمپ انتظامیہ کی ایک میٹنگ میں ممکنہ جوہری تجربے کا منصوبہ زیر بحث آیا۔ تاہم اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ امریکا کوئی نیا تجربہ کرے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سنیئر اہلکار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے متعدد اعلیٰ اہلکاروں نے ایسے دعوے کیے ہیں کہ روس اور چین ہلکی نوعیت کے جوہری تجربے کر رہے ہیں، جس کے بعد یہ بات زیر بحث آئی کہ اس صورتحال میں امریکا کو کیا کرنا چاہیے؟

'روس اور چین نے بھی جوہری تجربات کیے‘

دوسری جانب روس اور چین ایسی رپورٹوں کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ جوہری تجربات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ان ممالک پر الزام دھرنے والے امریکی اہلکاروں نے بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ چین یا روس نے کوئی جوہری تجربہ کیا ہے۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے فوری بعد ہی جوہری ہتھیاروں کے مخالف گروپوں اور اداروں نے فوری طور پر اس بحث کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اس صورت حال میں ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ واشنگٹن حکومت روس اور چین کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایک ڈیل چاہتی ہے اور اگر امریکا کوئی ایسا نیا تجربہ کرتا ہے تو اس کے باعث اس مذاکراتی عمل میں امریکا کی پوزیشن مستحکم ہو جائے گی۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے ایسا کوئی قدم امریکی دفاعی حکمت عملی میں ایک نیا موڑ ہو گا، جس سے جوہری طاقتوں کے حامل دیگر ممالک کو بھی تقویت ملے گی۔

ایک ماہر تجزیہ کار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ اگر امریکا نے کوئی نیا جوہری تجربہ کیا تو اس سے 'جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں غیر معمولی تیزی پیدا ہو جائے گی‘۔

امریکا کا ایک اور عسکری ڈیل سے الگ ہونے کا منصوبہ

واشنگٹن پوسٹ نے یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں شائع کی ہے، جب ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاسلحے کی دوڑ سے بچنے کی ایک اور عسکری ڈیل سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ٹرمپ کے صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ تیسرا دفاعی معاہدہ ہے، جس سے امریکا الگ ہو رہا ہے۔

'اوپن سکائیز ٹریٹی‘ نامی ایک عسکری معاہدے کا مقصد امریکا اور روس کے مابین اعتماد سازی کو یقینی بنانا تھا۔ اس پیشرفت پر نیٹو اتحادی ممالک نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اوپن سکائیز ٹریٹی کے تحت اس ڈیل کے رکن چونتیس ممالک ایک دوسرے کی فضائی حدود میں نگرانی کے لیے فوجی پرواز کر سکتے تھے۔ تاہم اب امریکا نے اس ڈیل کے تحت روس کے ساتھ تعاون کو ختم کرنے کا کہہ دیا ہے۔

اس ممکنہ فیصلے کے باعث امریکا کے اتحادیوں کو بھی تشویش لاحق ہو چکی ہے۔ یورپی ممالک اور مغربی عسکری اتحاد نیٹو نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

سن 2002 میں اس ڈیل پر عملدرآمد شروع ہوا تھا۔ روس نے البتہ کہا ہے کہ وہ اس اٹھارہ سالہ پرانے عسکری معاہدے پر عمل پیرا رہے گا۔

ع ب / ش ح (اے پی، ڈی پی اے، روئٹرز)

DW.COM

Audios and videos on the topic