امریکا: بائیڈن کا ’گن وائلینس‘ روکنے کے اقدامات کا اعلان | حالات حاضرہ | DW | 09.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا: بائیڈن کا ’گن وائلینس‘ روکنے کے اقدامات کا اعلان

ٹیکسیس میں جمعرات کے روز ایک شخص نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا۔ اس واقعے سے چند گھنٹے قبل ہی صدر بائیڈن نے ملک میں 'گن وائلینس‘ کو روکنے کے لیے متعدد انتظامی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

امریکا کے صدر جو بائیڈن نے گن وائلینس کو ایک 'وبا‘ قرار دیتے ہوئے جمعرات کے روز ملک میں بندوقوں اور پستولوں کے استعمال سے ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے تقریباً نصف درجن نئے انتظامی اقدامات کا اعلان کیا۔ تاہم ریپبلیکن پارٹی نے اس فیصلے کی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے ’غیر آئینی مداخلت‘قرار دیا ہے۔

امریکا میں حالیہ دنوں میں فائرنگ کے متعدد ہلاکت خیز واقعا ت پیش آئے ہیں۔ صدر بائیڈن کے تازہ اعلانات سے قبل جنوبی ریاست کیرولائنا میں فائرنگ کے ایک واقعے میں دو بچے سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ قاتل نے بھی بعد میں خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی تھی۔

 دوسری طرف نئے اقدامات کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی ٹیکسیس میں ایک شخص نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا۔

اس سے قبل کولاراڈو، جارجیا اور کلیفورنیا میں بھی فائرنگ کے ایسے ہی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں بندوقوں اور پستولوں کے استعمال سے ہر سال تقریباً چالیس ہزار اافراد کی جان چلی جاتی ہے۔ ان میں سے تقریباً نصف تعداد خود کشی کرنے والوں کی ہے۔

Belgien March For Our Lives in Brüssel

امریکا میں بندوقوں اور پستولوں کے استعمال سے ہر سال تقریباً چالیس ہزار اافراد کی جان چلی جاتی ہے۔

’گن وائلینس ایک وبا اورقوم کے لیے باعث شرمندگی‘

صدر جو بائیڈن نے گن وائلینس کو 'وبا‘ قرار دیتے ہوئے اس کے متعلق انتظامی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں گن وائلینس سے ہلاک ہونے والے شہریوں کی اتنی بڑی تعداد امریکی قوم کے لیے ”بین الا قوامی شرمندگی“کا باعث ہے۔

وائٹ ہاوس میں خطاب کے دوران سن 2012 میں کنیکٹیکٹ اور فلوریڈا کے اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والے بچوں کے رشتہ دار بھی موجود تھے۔ صدر بائیڈن نے ان افراد کی شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ان کی انتظامیہ صورت حال میں تبدیلی لانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

صدر بائیڈن نے مسئلے کی شدت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ اٹلانٹا میں ایک مساج پارلر اور کولاراڈو میں ایک جنرل اسٹور میں فائرنگ کے واقعات کے درمیان امریکا میں فائرنگ کے دیگر 850 مزید واقعات رونما ہوئے جن میں 250 افراد ہلاک اور 500 زخمی ہوئے۔

USA Schulmassaker von Parkland

فلوریڈا میں 2018 میں فائرنگ میں سترہ طلبہ ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے تھے

اب عمل کا وقت ہے، بائیڈن

صدر بائیڈن کے تازہ اقدامات، گزشتہ ماہ کیے جانے والے اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ گن وائلینس پر قابو پانے کے لیے، بقول ان کے، سمجھداری پر مبنی اقدامات اٹھائیں گے۔

انہوں نے کانگریس پر دوبارہ زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے امریکی سینیٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلحہ خریدنے والوں کا پس منظر جانچنے سے متعلق منظور کیے گئے قانونی اقدامات میں کمی کو دور کرے۔ صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کے درمیان یہ کوئی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں ہے اور وہ ان مسائل کے حل کے لیے کسی کے ساتھ بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تجویز کی مخالفت

 اپوزیشن ریپبلیکن نے صدر بائیڈن کے تجاویز کی مخالفت کی ہے۔ ایوان نمائندگان میں پارٹی کی سینیئر رہنما کیون میکارتھی نے کہا کہ  صدر بائیڈن کی جانب سے کی جانے والی کوششیں امریکی شہریوں کے ہتھیار رکھنے کے آئینی حق کو پامال کرنے کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کی حمایت نہیں کریں گے، اور نہ ہی ایوان میں موجود ریپبلکن ارکان ایسا کریں گے۔ انہوں نے صدر سے کہا کہ وہ آئین کا احترام کریں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گن کنٹرول کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر صدر بائیڈن کو سینیٹ سے حمایت ملنے کے امکانات کم ہیں۔ امریکی سینٹ میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن اراکین کی تعداد برابر ہے، اور ری پبلکن جماعت اس سلسلے میں کسی بھی تجویز کی مخالفت کے لئے تقریباً متحد ہے۔

امریکی صدر کے خطاب کے موقع پر موجود امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے کہا کہ وہ گن وائلینس کے مسئلے کے حل میں حائل مشکلات کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے پستولوں کو جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں سے دور رکھنے اور زندگیاں بچانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

ج ا / ص ز (اے پی، روئٹرز، اے ایف پی)

 

DW.COM