امریکا اور یورپی یونین سمندر میں چین کی ′مشتبہ ′کارروائیوں سے فکرمند | حالات حاضرہ | DW | 03.12.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا اور یورپی یونین سمندر میں چین کی 'مشتبہ 'کارروائیوں سے فکرمند

امریکا اور یورپی یونین نے سمندر میں چین کی سرگرمیوں پر اپنی مشترکہ فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔ انہو ں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے "چین سے مسابقت اور منظم رقابت" کا مقابلہ کرنے کے لیے قریبی باہمی تعاون پر زور دیا۔

جمعرات کے روز واشنگٹن میں جاری مشترکہ بیان میں امریکا اور یورپی یونین نے بحیرہ جنوبی چین، بحیرہ مشرقی چین اور آبنائے تائیوان میں  ان کے مطابق چین کی جاری "مشتبہ اور یک طرفہ کارروائیوں" پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کی سرگرمیوں سے "خطے میں امن اور سلامتی کے لیے تشویش لاحق" ہے۔ بیان میں بیجنگ کے ساتھ "مسابقت اور منظم رقابت" کا مقابلہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

یہ بیان نائب امریکی وزیر خارجہ وینڈی شیرمن اور یورپی خارجی ایکشن سروس (ای ای اے ایس)کے سکریٹری جنرل اسٹیفانو سانینو کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت کے بات جاری کیا گیا۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے ایغور اقلیتی مسلمانوں اور تبتی نسلی اقلیتوں پر چین کی جابرانہ کارروائیوں نیز ہانگ کانگ کی خودمختاری اور جمہوری سیاسی نظام کو ختم کرنے کی بیجنگ کی کوششوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔

بحیرہ جنوبی چین پر یورپی یونین کا موقف کیا ہے؟

یورپی یونین ملٹری اسٹاف کے ڈائریکٹر جنرل ہروے بلیجاں کا کہنا ہے، "ہم بحیرہ جنوبی چین میں عالمی طور پر تسلیم شدہ پالیسیوں کی جو یک طرفہ خلاف وزر ی دیکھ رہے ہیں اس کے مدنظر بین الاقوامی قانون کا دفاع کرنے کے حوالے سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان زیادہ وسیع تعاون کر سکتے ہیں۔"

بلیجاں نے کہا کہ فرانس بحرالکاہل میں ایک طاقت ہے اور جرمنی، نیدر لینڈ اور ڈنمارک جیسے دیگر یورپی یونین کے رکن ممالک نے خطے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ فرانس بحرالکاہل میں نیو کلیڈونیا، فرینچ پولینیسیا اور فوٹونا سمیت متعدد علاقوں کا نظم دیکھ رہا ہے۔

Infografik Karte Gebietsansprüche im Südchinesischen Meer EN

بلیجاں نے کہا کہ یورپی یونین بحیرہ جنوبی چین میں بھی اسی طرح کا "سمندری دلچسپی " کا ایک تجرباتی پروجیکٹ شرو ع کرسکتا ہے جیسا کہ وہ  بحر اٹلانٹک کے خلیج گنی میں یورپی یونین کی موجودگی کے بہتر رابطے کے لیے کام کر رہا ہے۔ شمالی بحیرہ ہند پر بھی نگاہ رکھی جاسکتی ہے۔

تشویش کا سبب کیا ہے؟

واشنگٹن میں یورپی یونین اور امریکا کے درمیان یہ بات چیت ایسے وقت ہوئی ہے جب تائیوان کے معاملے پر امریکا اور چین کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ ماہ "سرد جنگ کی کشیدگی"دوبارہ لوٹ آنے کی وارننگ دی تھی جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے تائیوان کے دفاع کے امریکی عزم کا اظہار کیا تھا۔

بیجنگ متنازع بحیرہ جنوبی چین میں اپنی موجودگی میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ چین کے علاوہ فلپائن، ویتنام اور  انڈونیشیا جیسے ممالک بھی اس بحری علاقے پر اپنے اپنے دعوے کرتے ہیں۔

تصادم کے ایک حالیہ واقعے میں چینی کوسٹ گارڈز نے فلپائن کی کشتیوں کو جنوبی بحیرہ چین سے گزرنے سے روک دیا تھا۔

ہیگ کی بین الاقوامی ثالثی عدالت نے سن 2016 میں ایک فیصلے میں کہا تھا کہ بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے بیجنگ کے بیشتر دعوے غیر قانونی ہیں۔

 ج ا/ ص ز   (روئٹرز)

DW.COM