امریکا اور اس کے اتحادی دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں، شام
2 اکتوبر 2012
شام کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے خانہ جنگی کے سیاسی حل کے لیے اپنے دروازے ابھی بھی کھلے رکھے ہوئے ہیں لیکن مغرب اور خلیجی ملکوں کو باغیوں کی حمایت ترک کرنا ہو گی۔ ولید المعلم کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو ’منظم دہشت گردی‘ کا سامنا ہے۔ پیر کے روز جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ قطر، سعودی عرب، ترکی، امریکا اور فرانس باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں۔ شام کے وزیر خارجہ نے لیبیا حکومت پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ القاعدہ کے کارکنوں کو ان کے ملک بھیج رہی ہے، جو کہ مختلف بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے شامی حکومت سےکہا ہےکہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ ’ہمدردی‘ کا اظہار کرے۔
لڑائی جاری
میڈیا رپورٹوں کے مطابق شام کے مختلف حصوں میں شامی افواج اور باغیوں کے درمیان لڑائی بدستور جاری ہے۔ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق باغیوں کے مضبوط گڑھ صوبہ ادلب کی ٹاؤن سلقین میں حکومتی فورسز کی گولہ باری سے کم ازکم اکیس افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں آٹھ بچے بھی شام ہیں۔ ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ اسی طرح ایک برطانوی واچ ڈاگ نے صوبہ حمص میں اٹھارہ شامی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے لیکن دمشق حکومت کی طرف سے اس کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ مختلف اداروں کے اندازوں کے مطابق شام میں گزشتہ اٹھارہ ماہ سے جاری خانہ جنگی میں اب تک تیس ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال خطرناک
پیر کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بار پھر شام کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملوں سے شام کو ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق مصر کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیداروں کا ایک وفد شام پہنچا ہے۔ فوری طور پر اس وفدکے مقاصد کا پتہ نہیں چلایا جا سکا ہے۔ مصری صدر محمد مرسی کے ایک ترجمان نے کسی بھی وفد کے شام بھیجے جانے کی تردید کی ہے۔ مصری صدر مرسی اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد کو اقتدار سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ مرسی نے سعودی عرب، ترکی اور ایران کی مدد سے شام کی خانہ جنگی ختم کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں۔
ia / ab ( AFP,AP,dpa)