1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکا اور اس کے اتحادی دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں، شام

Imtiaz Ahmad2 اکتوبر 2012

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی باغیوں کو نہ صرف اسلحہ بلکہ سرمایہ بھی فراہم کر رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/16ITT
تصویر: Getty Images

شام کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے خانہ جنگی کے سیاسی حل کے لیے اپنے دروازے ابھی بھی کھلے رکھے ہوئے ہیں لیکن مغرب اور خلیجی ملکوں کو باغیوں کی حمایت ترک کرنا ہو گی۔ ولید المعلم کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو ’منظم دہشت گردی‘ کا سامنا ہے۔ پیر کے روز جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ قطر، سعودی عرب، ترکی، امریکا اور فرانس باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں۔ شام کے وزیر خارجہ نے لیبیا حکومت پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ القاعدہ کے کارکنوں کو ان کے ملک بھیج رہی ہے، جو کہ مختلف بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔

Aleppo Gefechte Zerstörung
تصویر: AP

نیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے شامی حکومت سےکہا ہےکہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ ’ہمدردی‘ کا اظہار کرے۔

لڑائی جاری

میڈیا رپورٹوں کے مطابق شام کے مختلف حصوں میں شامی افواج اور باغیوں کے درمیان لڑائی بدستور جاری ہے۔ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق باغیوں کے مضبوط گڑھ صوبہ ادلب کی ٹاؤن سلقین میں حکومتی فورسز کی گولہ باری سے کم ازکم اکیس افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں آٹھ بچے بھی شام ہیں۔ ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ اسی طرح ایک برطانوی واچ ڈاگ نے صوبہ حمص میں اٹھارہ شامی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے لیکن دمشق حکومت کی طرف سے اس کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ مختلف اداروں کے اندازوں کے مطابق شام میں گزشتہ اٹھارہ ماہ سے جاری خانہ جنگی میں اب تک تیس ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

Aleppo Zerstörung
تصویر: Getty Images

کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال خطرناک

پیر کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بار پھر شام کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملوں سے شام کو ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق مصر کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیداروں کا ایک وفد شام پہنچا ہے۔ فوری طور پر اس وفدکے مقاصد کا پتہ نہیں چلایا جا سکا ہے۔ مصری صدر محمد مرسی کے ایک ترجمان نے کسی بھی وفد کے شام بھیجے جانے کی تردید کی ہے۔ مصری صدر مرسی اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد کو اقتدار سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ مرسی نے سعودی عرب، ترکی اور ایران کی مدد سے شام کی خانہ جنگی ختم کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں۔

ia / ab ( AFP,AP,dpa)