امريکی صدر کے ’نسل پرستانہ‘ بيانات پر جرمن چانسلر بھی نالاں | حالات حاضرہ | DW | 20.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امريکی صدر کے ’نسل پرستانہ‘ بيانات پر جرمن چانسلر بھی نالاں

جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر سفیدفام خواتين امریکی ارکان کانگریس کے بارے ميں متنازعہ بيان پر تنقيد کی ہے۔

مرکل نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی بیان بازی سے بھرپور اظہار لاتعلقی کرتی ہیں اور جن چار خواتین پر زبانی حملوے کیے گئے ہے ”ان کے ساتھ اظہار يکجہتی،، کرتی ہیں۔ مرکل نے يہ بيان دارالحکومت برلن ميں اپنی سالانہ پريس کانفرنس ميں ديا۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا بيان امريکی اقدار کے منافی ہے کیونکہ امريکا کی ترقی ميں مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کا اہم کردار رہا ہے۔

امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اکثر ايسے بیانات دیتے رہے ہيں، جن کی امریکہ کے اندر اور باہر بھی سخت مذمت ہوتی رہی ہے۔ پچھلے ہفتے انہوں نے ڈيموکريٹک پارٹی کی چار خواتين ارکان کے بارے ميں متعدد ٹوئیٹس میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور  انہیں مشورہ دیا کہ اگر وہ امريکا ميں خوش نہيں، تو وہ ملک چھوڑ کر جا سکتی ہیں۔

اس بيان پر امریکا میں شدید رد عمل سامنے آیا اور امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے 'نسل پرستانہ‘ بیانات کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی۔ صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ان کے بیان نسل پرستانہ ہرگز نہیں۔ لیکن انہوں نے اپنے بيان پر نظر ثانی کرنےکی بجائے ریاست نارتھ کيرولينا ميں منعقدہ ايک جلسے ميں پھر اپنے متنازع جمعلے دہرائے، جس پر ان کے حاميوں نے اراکین کانگریس کے خلاف 'انہیں واپس بھيجو‘ کے نعرے لگائے۔

ع س / ش ج، نيوز ايجنسياں

DW.COM