امريکی صدر کا دورہ بھارت، اہم معاملات کيا ہيں؟ | حالات حاضرہ | DW | 23.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امريکی صدر کا دورہ بھارت، اہم معاملات کيا ہيں؟

امريکی صدر پير سے بھارت کا مختصر دورہ شروع کر رہے ہيں۔ سياسی و اقتصادی تجزيہ کاروں کے مطابق اس دورے پر چند معاہدوں کو حتمی شکل تو دی جا سکتی ہے تاہم کسی بڑی پيش رفت کے امکانات کم ہی ہيں۔

امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پير چوبيس فروری سے بھارت کا دورہ شروع کر رہے ہيں۔ اس دورے پر روانگی سے قبل ٹرمپ نے کہا، ’’وہ ہميں کافی عرصے سے نقصان پہنچا رہے ہيں، کئی سالوں سے۔‘‘ امريکا اور بھارت کے اقتصادی تعلقات ويسے تو ايک عرصے سے خراب ہی رہے ہيں تاہم ٹرمپ کی ’امريکا سب سے پہلے‘ کی پاليسی اور وزير اعظم نريندر مودی کی ’ميک ان انڈيا‘ پر خصوصی توجہ ان تعلقات ميں مزيد خرابی کا باعث بنيں۔
امريکی صدر پير کو بھارت پہنچ رہے ہيں۔ اپنے چھتيس گھنٹوں کے دورے پر وہ احمد آباد، آگرہ اور دارالحکومت نئی دہلی جائيں گے۔ کامرس سکریٹری ولبر روس اور ديگر اہم عہديدار ان کے ہم راہ ہيں۔ عالمی سطح پر پانچويں سب سے مستحکم معيشت کے حامل ملک کے دورے پر کسی بڑی پيش رفت کے امکانات کم ہی ہيں۔ امريکا اور بھارت کے مابين باہمی تجارت کا حجم سن 2018 ميں 145 بلين ڈالر رہا۔ بھارت کے ساتھ تجارت ميں امريکا کو پچيس بلين ڈالر کے خسارے کا سامنا بھی رہا، جو صدر ٹرمپ کے ليے يقيناً پريشان کن بات ہے۔
بھارت کا ہميشہ ہی سے ’پروٹيکشن ازم‘ يا داخلی منڈی کو تحفظ دينے پر زور ہے۔ بھارت ميں امپورٹس پر محصولات کافی اونچے ہيں۔ مودی کے دور حکومت ميں اقتصادی ترقی کی سست رفتار اور بجٹ خسارے ميں اضافے کے باوجود يہ پاليسياں برقرار ہيں۔ حاليہ مہینوں میں نئی دہلی حکومت نے کئی امريکی مصنوعات پر ڈيوٹی مزيد بڑھا دی ہے جس پر نالاں ہو کر ايک امريکی اقتصادی سفير نے اپنا دورہ بھارت منسوخ بھی کيا۔ پھر ای کامرس پر قدغنيں اور يہ شرط کہ بھارتی صارفين کا ڈيٹا بھارت ہی ميں محفوظ کيا جائے، امريکی کاروبادی اداروں کے ليے پريشانی کا سبب بنا۔ دراصل مودی کی ’ميک ان انڈيا‘ مہم کا مقصد يہ ہے کہ غير ملکی کمپنيوں کو اپنی پروڈکشن جنوبی ايشيا ميں منتقل کرنے پر مجبور کيا جائے۔ يہ حکمت عملی امريکی صدر کی ’امريکا سب سے پہلے‘ کے مقاصد سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔

پچھلے چند برسوں ميں چند امريکی اقدامات نے بھارتی معيشت کو کافی نقصان پہنچايا ہے۔ دو برس قبل اسٹيل اور ايلومينيم مصنوعات پر ٹيکس بڑھانے کے امريکی اقدام سے بالخصوص بھارت متاثر ہوا۔ بھارت اسٹيل کی پيداوار کے لحاظ سے تيسرا سب سے بڑا ملک ہے اور امريکی قدم سے اس کی اسٹيل ايکسپورٹس ميں چھياليس فيصد کی کمی نوٹ کی گئی۔ اليکٹريکل مشينری اور گاڑيوں کے پرزوں کی برآمدات بھی متاثر ہوئيں۔ پھر پچھلے سال واشنگٹن حکومت نے بھارت کی ترجيحی حيثيت بھی ختم کر دی۔
دونوں ممالک کے مابين اہم معاملات میں کشمير کا تنازعہ اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی شامل ہيں۔ ايک طرف کشمير ميں بھارتی اقدامات پر عالمی سطح پر کافی تنقيد جاری ہے اور ديکھنا يہ ہے ٹرمپ يہ معاملہ اٹھائيں گے يا نہيں جب کہ  دوسری جانب پاکستان کے ساتھ کشيدگی ميں کمی کے ليے ٹرمپ کئی مرتبہ ثالثی کی پيشکش کر چکے ہيں، جسے مودی رد بھی کر چکے ہيں۔
امريکی صدر اس مختصر دورے پر دنيا کے سب سے بڑے کرکٹ اسٹيڈيم ميں ايک ريلی سے خطاب کريں گے۔ خاتون اول ميلانيا کے ہمراہ وہ تاج محل پر سورج غروب ہونے کا منظر بھی ديکھيں گے۔

ویڈیو دیکھیے 02:18

امریکا کی طرف سے بھارت کی خصوصی تجارتی حیثیت ختم کرنے کا عندیہ

ع س / ع ت، نيوز ايجنسياں

ملتے جلتے مندرجات