اماراتی خاتون ستائیس سال بعد کومے سے جاگ اٹھیں | معاشرہ | DW | 25.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

اماراتی خاتون ستائیس سال بعد کومے سے جاگ اٹھیں

منیرہ عبدللہ کے خاندان نے آگاہ کیا ہے کہ منیرہ ایک جرمن کلینک میں ہوش میں آچکی ہیں۔ منیرہ ستائیس سال قبل ایک کار حادثے میں شدید زخمی ہوئی تھیں، جس کے بعد علاج کی غرض سے انہیں جرمنی لایا گیا تھا۔

1991 ء میں منیرہ عبدللہ کی عمر 32 سال تھی جب کار کے حادثے میں انہیں شدید چوٹیں لگی تھیں اور وہ کومہ میں چلی گئی۔ وہ ستائیس سال تک ہسپتال کے بستر میں کومہ کی حالت میں رہیں۔ اب منیرہ کی عمر 60 سال ہے۔

 ستائیس سال قبل 1991ء میں منیرہ اپنے بیٹے عمر کو اسکول لینے گئی تھی۔ واپسی میں یہ سنگین حادثہ پیش آیا۔ منیرہ کے بیٹے کا کہنا تھا کہ پچھلے سال مئی میں وہ ہوش میں آچکی تھی مگر تمام اہل خانہ نے صورت حال بہتر ہونےکا انتظار کیا۔ منیرہ اب ہوش میں ہیں۔ یہ اطلاع میڈیا کو اس کے خاندان نے بدھ کو دی ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے منیرہ کےبیٹے نے بتایا،’’1991ء  میں میری عمر 4 سال تھی۔ اس حادثے میں میں بھی زخمی ہوا تھا۔ ہم نے جب ان کی حالت کو بہتر پایا تو سوچاکہ کیوں نہ ان کے بارے میں دنیا کو بتایا جائے۔ میری والدہ ناامید لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے۔‘‘

 منیرہ کے بیٹے کا مزید کہنا تھا،’’ میں نے اس لمحے کو جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کا خواب دیکھا تھا۔اور میری ماں نے ہوش میں آتے ہی سب سے پہلے میرا نام پکارا۔‘‘

متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کے ذریعے عمر نے اپنی والدہ کے جرمن ڈاکٹروں سے رجوع کیا۔ منیرہ جرمنی کے جنوبی شہر باڈ آئبلنگ کی شون کلینک میں زیر علاج تھیں۔ کلینک کے ترجمان آسٹرڈ کا کہنا ہے،’’سننے میں یہ ایک معجزے کی طرح لگتا ہے۔ یہ بہترین طبی دیکھ بھال کانتیجہ ہے۔‘‘

 اعصابی امراض کے ماہر ڈاکٹر فرائیڈ مین ملر کا کہنا ہے،’’دوران علاج وہ مستقل طور پر وہیل چیئر پر رہی ہیں۔ انہیں مختلف طرح کے علاج سے گزارا گیا۔ ساتھ ہی باقاعدگی سے دوا، آپریشن اور دماغی حس کو متحرک کرنے کے لیے بھی خوب محنت کی گئی، جو کامیاب رہی۔‘‘

رافعہ اعوان (اے ایف پی،اے پی، ڈی پی اے)

DW.COM

Audios and videos on the topic