الیکشن میں ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا، اپوزیشن کا الزام | حالات حاضرہ | DW | 16.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

الیکشن میں ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا، اپوزیشن کا الزام

گلگت بلتستان میں بظاہر پی ٹی آئی نے پہلی بار نو سیٹیں حاصل کر لیں جبکہ سات آزاد ارکان بھی جیت گئے۔ پی ٹی آئی حکومت کے مطابق یہ ایک صاف شفاف الیکشن تھا۔

ابتدائی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی صرف تین اور مسلم لیگ نواز دو سیٹیں حاصل کر پائی۔ گذشتہ انتخابات میں مسلم لیگ کو وہاں دو تہائی اکثریت ملی تھی۔

گلگت بلتستان کے انتخابات میں عام طور پر وہی پارٹی الیکشن جیتتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خطے کا اسلام آباد پر معاشی و سیاسی دآرومدار بتایا جاتا ہے۔

کیا سلیکٹرز نے پھر کام دکھایا؟

اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کے چیئرمیں بلاول بھٹو زرداری نے کئی ہفتوں تک بھرپور انتخابی مہم چلائی۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ، انتخابات میں ''گلگت بلتستان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا، گلگت کی عوام غیرت مند ہے۔ انہوں نے ڈوگرا راج سے خود آزادی لی۔ یہ کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ ان کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا جائے۔‘‘

انہوں نے پیر کو گلگت میں اپنے کارکنوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں مینڈٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، وہاں احتجاج ہوگا۔

بلاول بھٹو نے خبردار کیا کہ ''سیاسی لوگوں کو دیوار سے نہ لگائیں، ایسا نہ ہو کہ لوگ ہمارے ہاتھ سے بھی نکل جائیں۔‘‘

ادھر مسلم لیگ نواز کی مرکزی رہنما مریم نواز نے بھی حکومت پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا، ''گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا نہ پہلے کوئی وجود تھا نہ اب ہے۔اس کو بھیک میں ملنے والی چند سیٹیں دھونس، دھاندلی، مسلم لیگ ن سےتوڑے گئے امیدواروں اور سلیکٹرز کی مرہون منت ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے وفاداریاں تبدیل کرانے اور بدترین دھاندلی کے باوجود سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا شرمناک شکست ہے۔‘‘

لیکن بعض مبصرین کے مطابق بعض علاقوں میں مسلم لیگ نواز کو میاں نواز شریف کی فوجی قیادت پر تنقید بھی مہنگی پڑی۔

فوج سے جذباتی وابستگی

صحافی و تجزیہ نگار غلام الدین علی شیر نے نواز لیگ کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا،  ''یہاں لوگوں کی آرمی سے قریبی وابستگی ہے۔ یہاں کے کئی سپاہی اور افسران گارگل کی جنگ اور ملک کے اندر مختلف آپریشنز میں شہید ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر ہمارے علاقے کے لوگ سوات، جنوبی و شمالی وزیرستان میں شہید ہوئے۔ ہر دوسرے گھر کا کوئی نہ کوئی بندہ آرمی میں ہے۔ ایسے میں نواز لیگ کے بیانیئے کو یہاں کیسے پذیرائی مل سکتی تھی۔‘‘

ضلع غذر سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار علی احمد جان کا کہنا ہے خطے کے ساٹھ سے ستر سے فیصد لوگوں کا روزگار  فوج کی نوکری سے منسلک ہے۔ ''اس کے علاوہ گلگت اسکاوئٹس میں بھی ایک بڑی تعداد یہاں سے جاتی ہے، جس کی کمان آرمی کے افسران کرتے ہیں۔ پندرہ ہزار کے قریب نارتھن لائٹ انفٹری میں گلگت کے لوگ ہیں۔

تو یہ صرف جذباتی معاملہ نہیں۔ اسی لیے آپ نے دیکھا کہ سابق وزیر اعلی حفیظ الرحمن بھی الیکشن ہار گئے حالانکہ انہوں نے بہت سارے ترقیاتی کام کرائے تھے۔‘‘

'شکست حکومت کو ہوئی‘

نواز لیگ کے سینیئر رہنما سینیٹر پرویز رشید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جی بی کی عوام نے عمران خان اور ان کے وعدوں پر عدم اعتماد کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ''گلگت کی یہ روایت رہی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اس جماعت کو ووٹ دیا، جو مرکز میں حاکم ہوتی ہے۔ لیکن تمام تر مداخلت کے باوجود عوام نے پی ٹی آئی کو اکثریت نہیں دی۔ اس کا مطلب ہے کہ شکست در حقیقت پی ٹی آئی کو ہوئی ہے کیونکہ عمران کے مخالفین کو تو پندرہ کے قریب نشتیں ملی ہیں۔‘‘