القاعدہ نے داعش کو ناجائز قرار دے دیا | حالات حاضرہ | DW | 09.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

القاعدہ نے داعش کو ناجائز قرار دے دیا

عالمی سطح پر دہشت گرد گروپ تسلیم کیے جانے والے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ اور اس کے سربراہ ابوبکربغدادی کو ناجائز قرار دیا ہے۔

الظواہری کی طرف سے القاعدہ کے پیروکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ شام اور عراق میں مغربی سربراہی میں قائم اتحادیوں کے خلاف لڑائی کے لیے اس میں شریک ہو سکتے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے ایک آڈیو پیغام میں القاعدہ کے سربراہ کا کہنا ہے، ’’ہم اس خلافت کو نہیں مانتے‘‘۔ روئٹرز کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ یہ آڈیو ریکارڈنگ کب کی گئی تاہم واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ کم از کم بھی آٹھ ماہ پرانی ہے۔

اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ شام اور عراق کے کافی بڑے علاقوں پر قابض ہے جہاں اس نے اس گروپ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی سربراہی میں خودساختہ اسلامی خلافت قائم کر رکھی ہے۔ یہ عسکریت پسند گروپ پورے مشرق وُسطیٰ میں خلافت قائم کرنے کے دعوے رکھتا ہے۔

القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کے درمیان مسابقت کے باجود مصر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اور القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری نے کہا ہے کہ دونوں گروپوں کے درمیان مغرب کے خلاف لڑنے کے لیے تعاون کی گنجائش موجود ہے۔

ایمن الظواہری کے مطابق وہ ابوبکر البغدادی کی خلافت کو نہیں مانتے

ایمن الظواہری کے مطابق وہ ابوبکر البغدادی کی خلافت کو نہیں مانتے

آڈیو پیغام میں القاعدہ کے سربراہ کا کہنا ہے، ’’(اسلامک اسٹیٹ کی) بڑی غلطیوں کے باوجود، اگر میں عراق یا شام میں ہوتا تو صلیبیوں، سیکولر اور شیعوں کو ہلاک کرنے کے لیے ان سے تعاون کرتا، حالانکہ میں ان کی ریاست کو جائز تصور نہیں کرتا، مگر یہ معاملہ اس سے بڑا ہے۔‘‘

الظواہری نے اپنے پیغام میں یہ تو واضح نہیں کیا کہ ان الفاظ کا مطلب کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق تاہم اس بات کے بڑے امکانات ہیں کہ القاعدہ سربراہ کی طرف سے کسی طرح کی مصالحت کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔