اقوام متحدہ کی پابندیاں ’جنگی اقدام‘ ہے، شمالی کوریا | حالات حاضرہ | DW | 24.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کی پابندیاں ’جنگی اقدام‘ ہے، شمالی کوریا

شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی تازہ پابندیوں پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ’جنگی اقدام‘ قرار دیا ہے۔ شمالی کوریا نے ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنے جوہری پروگرام کو بند نہیں کریں گے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعے کے روز شمالی کوریا کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی تھی۔ ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کی توانائی کی ضروریات کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اس کی برآمدات کو بھی انتہائی محدود کر دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان پابندیوں کے ذریعے شمالی کوریا کی ’مکمل اقتصادی بندش‘ کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اب شمالی کوریا کی طرف سے ان پابندیوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے گیا ہے، ’’اگر امریکا امن سے رہنے کی خواہش رکھتا ہے تو اسے شمالی کوریا کے ساتھ معاندانہ پالیسی کو ختم کرنا ہوگا۔‘‘

USA UN-Sicherheitsrat Nikki Haley (Getty Images/D. Angerer)

شمالی کوریا نے امریکا کو سامراجی طاقت قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’اس ملک کو نشانہ بنانے کے اہل ہیں‘

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے نے اتوار کے روز وزارت خارجہ کے حوالے  سے مزید بتایا ہے، ’’امریکا کو جوہری طاقت شمالی کوریا کے ساتھ مل کر رہنا سیکھ لینا چاہیے اور اسے اب یہ خواب بھی دیکھنا بند کر دینا چاہیے کہ ہمارا ملک جوہری ہتھیاریوں سے دستبرداری اختیار کر لے گا۔‘‘

شمالی کوریا نے امریکا کو سامراجی طاقت قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’اس ملک کو نشانہ بنانے کے اہل ہیں۔‘

سلامتی کونسل کی طرف سے عائد کی گئی تازہ ترین پابندیوں کے تحت شمالی کوریائی حکومت کی اعلیٰ پٹرولیم مصنوعات تک رسائی کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اس قرارداد کے تحت اب یہ ملک نوے فیصد ایسی درآمدات کرنے کا اہل نہیں رہے گا۔ ایک سال کے اندر شمالی کوریا کو صرف پانچ لاکھ بیرل صاف کیا گیا تیل ایکسپورٹ کیا جا سکے گا۔

اسی طرح خام تیل کے حصول پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب ایک سال کے اندر خام تیل حاصل کرنے کی حد چار ملین بیرل مقرر کر دی گئی ہے۔ اس قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سلامتی کونسل شمالی کوریا کی جانب سے کسی بھی نئی خلاف ورزی کے نتیجے میں صاف تیل یا خام تیل کی مقرر کردہ حد میں کمی لانے کی مجاز ہو گی۔

اقوام متحدہ نے بیرون ممالک کام کرنے والے شمالی کوریائی باشندوں کی واپسی کو بھی قرارداد میں شامل کیا ہے۔ ابتداء میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ بیرونی ممالک میں کام کر کے اپنے ملک شمالی کوریا میں مقیم خاندانوں کو رقوم بیجھنے والے ان باشندوں کو بارہ ماہ یا ایک سال کے اندر اندر واپس بیجھا جائے لیکن آخری وقت پر ملک بدری کی مدت ایک سال کے بجائے دو سال کر دی گئی۔

شمالی کوریا پر یہ اقتصادی پابندیاں جوہری ہتھیار سازی اور بیلسٹک میزائل تجربات کے تناظر میں عائد کی گئی ہیں۔ اس ملک کی جانب سے رواں برس بیلسٹک میزائل کا آخری تجربہ انتیس نومبر کو کیا گیا تھا۔

اشتہار