اقوام متحدہ کو چھوڑ بھی سکتے ہیں، فلپائن کے صدر کی دھمکی | حالات حاضرہ | DW | 21.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ کو چھوڑ بھی سکتے ہیں، فلپائن کے صدر کی دھمکی

فلپائن کے صدر نے اقوام متحدہ کو انتہائی ’ہتک آمیز‘ طریقے سے پکارتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اُن کا ملک اس کو چھوڑ بھی سکتا ہے۔ قبل ازیں اس عالمی ادارے نے منشیات کے خلاف اُن کی حکومت کی خون ریز مہم کو ہدفِ تنقید بنایا تھا۔

فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے نے الزام عائد کیا کہ اقوام متحدہ اور اُس کے ماہرین منشیات کا کاروبار کرنے والے مشتبہ افراد کی ہلاکتوں کے سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلپائن کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ تیس جون کو ڈوٹیرٹے کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے اب تک ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے پندرہ سو سے زائد افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں تقریباﹰ چھ سو ایسے افراد ہیں جن پر منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہونے کا شبہ تھا۔ مقامی میڈیا اور انسانی حقوق کے کچھ گروپ یہ تعداد ایک ہزار تک بھی بتا رہے ہیں۔

فلپائن کے صدر اپنے ملک میں ’سخت یا تیزابی بیانات‘ دینے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔کئی مرتبہ پہلے بھی اقوام متحدہ کے خلاف بیانات دینے والے اس لیڈر کا آج کہنا تھا، ’’شاید ہمیں اقوام متحدہ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو ایک ’فاحشہ کے بیٹے‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا، ’’اگر تم ہماری عزت نہیں کرتے تو ہم بھی تمہیں چھوڑ دیں گے۔‘‘

Philippinen - Drogenkrieg

فلپائن کے صدر نے منشیات کے کاروبار سے وابستہ افراد کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی اہل کاروں کو تحفظ اور انہیں خصوصی انعام فراہم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک دوسری بین الاقوامی تنظیم کا قیام چاہتے ہیں، ’’میں اس سلسلے میں شاید سب کو مدعو کروں گا، میں شاید چین اور افریقی ممالک کو بھی مدعو کروں گا۔‘‘

یاد رہے کہ فلپائن کے صدر نے منشیات کے کاروبار سے وابستہ افراد کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی اہل کاروں کو تحفظ اور انہیں خصوصی انعام فراہم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دنیا بھر میں پھانسیوں پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب ایگنیس کالامرڈ کا اس حوالے سے فلپائن پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

جون میں اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری بان کی مون نے بھی ڈوٹیرٹے کے انتخابی مہم کے دوران دیے گئے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس میں انہوں نے منشیات کے کاروبار سے منسلک ایک لاکھ افراد کو ہلاک کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ منیلا کے خلیج میں اس قدر لاشیں پھینکےگے کہ وہاں کی مچھلیاں بھی چربی سے موٹی ہو جائیں گی۔

اس بیان کے بارے میں بان کی مون کا کہنا تھا، ’’میں ظاہری طور پر ماورائے عدالت قتل کے اس حکم نامے کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ غیرقانونی اور آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ فلپائن کا یہ رہنما ماضی میں بان کی مون اور پوپ فرانسس کو ’فاحشہ کی اولاد‘ کہہ کر پکار چکا ہے۔ آج اس رہنما کا کہنا تھا، ’’بھاڑ میں جاؤ اقوام متحدہ، تم تو مشرق وسطیٰ میں قتل عام کو نہیں روک سکتے، تم تو افریقہ میں کسی کی مدد کرنے کے قابل نہیں ہو۔‘‘

روڈریگو ڈوٹیرٹے مزید ’ہتک آمیز‘ الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے فلپائن کے لیے آج تک کچھ نہیں کیا۔ تاہم اس صدر کے ساتھی ہمیشہ یہی وضاحت دیتے ہیں کہ صدر کے تبصروں کو حقیقی طور پر نہ لیا جائے بلکہ یہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتے ہیں۔