اقوام متحدہ کا اگلا سربراہ کون؟ | معاشرہ | DW | 10.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اقوام متحدہ کا اگلا سربراہ کون؟

ایک سابق صدر، تین سابق وزرائے اعظم، متعدد سابق وزرائے خارجہ اور ایک جز وقتی شاعر اس وقت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی مہم شروع کر چکے ہیں۔

رواں برس کے اختتام پر ہونے والے اس انتخاب میں ممکنہ طور پر آئندہ سیکرٹری جنرل کا تعلق مشرقی یورپ سے ہو سکتا ہے اور اس عہدے پر پہلی مرتبہ کوئی خاتون بھی براجمان ہو سکتی ہے۔

اس عہدے کے لیے میدان میں اترنے والے آٹھ امیدوار:

ایرینا بوکووا:

بوکووا سن 2009 سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ثقافت یونیسکو کی سربراہ ہیں۔ بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی بوکووا نے سن 1996 تا 1997 اپنے ملک کی وزیر خارجہ کے طور پر بھی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس کے علاوہ وہ فرانس اور موناکو میں بلغاریہ کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔ اس عہدے کے لیے روس نواز سمجھی جانے والی 63 سالہ بوکووا کو سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ سوویت دور میں ان کے والد بلغاریہ کی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار کے مدیر تھے۔ انگریزی، فرانسیسی، روسی اور ہسپانوی زبانوں پر عبور رکھنے والی بوکووا ہی کی سربراہی میں فلسطین کو یونیسکو کی رکنیت دی گئی، جس پر امریکا نے اس عالمی ادارے کے لیے اپنی فنڈنگ روک دی تھی۔

Srgjan Kerim Präsident der 62. UN- Vollversammlung

سریان کیرِم مقدونیہ کے وزیرخارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہ کے بطور کام کر چکے ہیں

ہیلن کلارک:

کلارک ماضی میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے بطور خدمات انجام دے چکی ہیں جب کہ وہ سن 2009 سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام UNDP کی سربراہی بھی کر رہی ہیں۔ انہیں اقوام متحدہ سے وابستہ سب سے اعلیٰ ترین عہدے کی حامل خاتون تصور کیا جاتا ہے۔ 66 سالہ کلاک نیوزی لینڈ کی سب سے طویل مدت تک وزیر اعظم رہنے کی اعزازیافتہ بھی ہیں۔ کلارک کے سیکرٹری جنرل بننے کے امکانات کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا، کیوں کہ بعض سفارت کار انہیں ’مغرب نواز‘ قرار دیتے ہیں، جنہیں عالمی سفارتی برادری کی زیادہ حمایت حاصل نہیں۔

ناتالیا گیرمن

گیرمن مالدووا کی وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انہوں نے یہ ذمہ داریاں تب ادا کیں، جب ان کا ملک یورپی یونین کے ساتھ قریبی تجارتی تعاون کے معاہدے کے سلسلے میں مذاکرات میں مصروف تھا۔ گیرمن نے یہ ذمہ داریاں سن 2013 سے رواں برس جنوری تک نبھائیں۔ یہ 47 سالہ خاتون سفارت کار آسٹریا، سویڈن، ناروے اور فن لینڈ میں اپنے ملک کی سفیر رہ چکی ہیں۔ گیرمن کے والد آزاد مالدووا کے پہلے صدر بھی تھے۔ گیرمن انگریزی، روسی اور جرمن زبانوں پر عبور رکھتی ہیں۔

انٹونیو گُٹیریس

اقوام متحدہ کے سابق ہائی کمشنر برائے مہاجرین یورپ کو لاحق مہاجرین کے بحران کے تناظر میں اس عہدے کے لیے ایک مضبوط امیدوارکے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے UNHCR کے سربراہ کی حیثیت سے دس برس تک کام کیا اور گزشتہ برس دسمبر میں اپنے عہدے سے سبک دوش ہوئے تھے۔ 66 سالہ گُٹیریس سن 1995 تا 2002 پرتگال کے وزیر اعظم بھی رہے تھے۔ وہ پرتگالی زبان کے علاوہ انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔

سریان کیرِم

کیرِم بلقان کی ریاست مقدونیہ کے وزیر خارجہ کے بہ طور خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ملک کی جانب سے سفیر برائے اقوام متحدہ بھی کام کیا اور سن 2007 تا 2008 جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔ بعد میں انہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کا خصوصی مندوب مقرر کیا گیا۔ 67 سالہ کیرِم کو تاہم اس دوڑ میں ایک مضبوط امیدوار نہیں سمجھا جا رہا۔ کیرِم انگریزی، فرانسیسی، جرمن، ہسپانوی اور اطالوی زبانیں بھی بول سکتے ہیں

ایگور لُکسِک

سن 2012ء سے مونٹی نیگرو کے وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دینے والے لُکسِک اس سے قبل وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے عہدوں پر بھی کام کر چکے ہیں۔ 39 سالہ لُکسِک کو اس دوڑ میں سب سے کم عمر امیدوار کی حیثیت حاصل ہے۔ لُکسِک شاعری بھی کرتے ہیں اور ان کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک ’دا بُک آف فیئر‘ یا ’خوف کی کتاب‘ بھی ہے، جس کا ترجمہ اطالوی اور فرانسیسی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ وہ انگریزی زبان میں مہارت رکھتے ہیں جب کہ اطالوی، فرانسیسی اور جرمن زبانیں بھی جانتے ہیں۔

ویسنا پُسیک

پانچ برس تک کروشیا کی وزیر خارجہ رہنے والی 62 سالہ پُسیک ابھی رواں برس جنوری میں اپنے عہدے سے سبک دوش ہوئی ہیں۔ انہیں کروشیا کی یورپی یونین میں شمولیت کو ممکن بنانے والی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سماجیات کی ماہر پُسیک اپنے خیالات کا اظہار برملا کرتی ہیں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی آئی ہیں۔ وہ انگریزی اور جرمن زبانوں پر عبور رکھتی ہیں۔

ڈنیلو ترک

سلووینیہ کے سابق صدر اور سن 1992ء میں اقوام متحدہ کے لیے اپنے ملک کے پہلے سفیر کے طور پر خدمات انجام دینے والے ترک اقوام متحدہ کے نائب سیکرٹری جنرل برائے امور سیاست رہ چکے ہیں۔ وہ سلووینیہ میں قانون پڑھاتے رہے ہیں، جب کہ سن 2007ء میں انہیں ملک کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس عہدے پر وہ سن 2012 تک فائز رہے، اس کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہو گئے۔ سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے انہیں سب سے زیادہ سینیئر امیدوار کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ فرانسیسی، انگریزی، جرمن اور متعدد سرب کروشیائی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔