اقوام متحدہ میں ایران اور سعودی عرب کے ایک دوسرے پر ’جرائم‘ کے الزامات | حالات حاضرہ | DW | 24.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اقوام متحدہ میں ایران اور سعودی عرب کے ایک دوسرے پر ’جرائم‘ کے الزامات

ایران نے سعودی عرب پر حقائق کو مسخ کرنے اور اپنے ’جرائم‘ دوسروں کے سر تھوپنے کا الزام عائد کیا ہے۔ قبل ازیں اقوام متحدہ میں سعودی عرب نے ایران پر ’توسیع پسندی اور دہشت گردی‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بدھ 23 ستمبر کو سعودی شاہ سلمان نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ہی گزشتہ برس 'سعودی آئل فیلڈز پر حملے‘ کیے تھے۔ اپنے ریکارڈ شدہ بیان میں انہوں نے تہران حکومت پر 'توسیع پسندانہ سرگرمیوں‘ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اسی مقصد کے لیے یہ ملک 'دہشت گردوں‘ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

آج جمعرات کو ایران کی جانب سے ان الزامات کا جواب مزید سختی سے دیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا، ''سعودی عرب برسوں سے الزامات عائد کرنے اور حقائق کو مسخ کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ وہ حقائق سے فرار کی کوشش میں رہتا ہے اور اپنے جرائم کا جواب نہیں دیتا۔‘‘

سعودی عرب نے الزام عائد کیا تھا کہ تہران حکومت ہی یمن کے حوثی باغیوں کو ہتھیار فراہم کر رہی ہے اور اسی نے سعودی آئل فیلڈز پر حملے کروائے تھے۔ ایران کی طرف سے ان الزامات کو مسترد اور ساتھ ہی ریاض حکومت پر یمن میں 'جنگی جرائم کا مرتکب‘ ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ سعید خطیب زادہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ''سعودی عرب خطے میں دہشت گردی کا مرکزی سپانسر ہے اور تکفیری دہشت گردانہ سوچ کا مرکز بھی۔‘‘ ایران تکفیری لفظ سنی جہادیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے انتہائی سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کو عرب ممالک میں 'بد نصیب مخلوق‘ قرار دیا اور ساتھ ہی یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ امریکی دباؤ پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے۔

سعودی عرب نے سن دو ہزار سولہ میں اس وقت تہران حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے، جب مظاہرین نے سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا تھا۔

ا ا / ا ب ا (روئٹرز، اے ایف پی)