افغان گورنر کا برطرفی سے انکار، سیاسی بحران سر اٹهاتا هوا | حالات حاضرہ | DW | 20.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان گورنر کا برطرفی سے انکار، سیاسی بحران سر اٹهاتا هوا

افغان صوبه بلخ کے بااختیار گورنر عطا محمد نور نے ملکی صدر محمد اشرف غنی کی جانب سے استعفی قبول کیے جانے کے بعد عہدے سے برطرف ہونے سے انکار کر دیا ہے، جس باعث جنگ زده ملک میں ایک نیا سیاسی بحران ابهرتا دکهائی دے رہا ہے۔

اس واضح مخالفت اور انکار نے یہ ثابت کر دیا ہے که گورنر عطا محمد نور  افغانستان کے دیگر 33 صوبوں کے گورنرز کی طرح کوئی عام حکومتی اہلکار نہیں۔ وه گزشته قریب 16 برسوں سے اس عہدے پر براجمان ہیں۔ ان کا شمار ایک ایسی سرمایه دار اور بااختیار شخصیت کے طور پر ہوتا ہے، جس کے پاس مسلح حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

حالیه تنازعه اس وقت کهڑا ہوا جب دو روز قبل مقامی حکومتوں کے خود مختار ادارے کی جانب سے جاری کرده اعلامیے میں اعلان کیا گیا که صدر غنی نے گورنر عطا محمد نور کا استعفی قبول کر لیا ہے اور انجینئر داؤد کو بلخ کے نئے گورنر کی حیثیت سے منتخب کر لیا ہے۔ گرچه نیا گورنر بهی عطا محمد نور ہی کی جماعت 'جمعیت اسلامی افغانستان' سے ہے، تاہم نور اور ان کی مکمل جماعت، جو طالبان دور کے خاتمے سے اب تک حکومت میں ہے، سراپا احتجاج ہے که آخر صدر غنی نے کیونکر 'جلد  بازی میں'یه فیصله کیا، جو ان کے بقول عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

انفرادی طور پر عطا محمد نور اور صوبے میں ان کے حامی عہدیداروں نے فیصله ماننے سے واضح انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے افغانستان متعین غیر ملکی افواج کو 'مداخلت' نه کرنے کا کہا ہے اور اپنے عہدے کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے۔ دارالحکومت کابل میں ان کی جماعت کے صدر اور ملکی وزیر خارجه صلاح الدین ربانی نے ہنگامی اجلاس کے بعد صدر غنی پر زور دیا که وه اپنے فیصلے پر پهر سے غور کریں اور ساتھ ہی یه دھمکی بھی دی ہےکه دوسری صورت میں 'جمعیت' حکومت سے علیحده ہوجائے گی، جس باعث پیدا ہونے والے حالات کے ذمه دار صدر مملکت خود ہوں گے۔

صدر غنی بظاہر خاموشی سے حالات کا جائزه لے رہے  ہیں۔ ان کے ترجمان شاه حسین مرتضوی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا که صدر مملکت نے عطا محمد نور کو برطرف نہیں کیا بلکه ان کا دیا ہوا استعفی منظور کیا ہے۔ چند ماه قبل گورنر نور نے صدر غنی سے اپنی جماعت کے لیے مزید اختیارات طلب کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا تها، جس دوران انہوں نے اپنا استعفی بهی پیش کیا تها۔ اب ان کا کہنا ہے که وه استعفی دراصل مطالبات سے مشروط تها اور دوسری صورت میں قابل اطلاق نہیں۔

افغانستان: امریکی کامیابیاں، جرائم اور ہلاکتوں کے سبب ماند

نیٹو کا افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ

افغان طالبان کی لڑائی کا رخ اب سیدھا پولیس اور فوج کی طرف

تجزیه نگار کبیر رنجبر کے بقول یه صورتحال کسی بهی صورت میں مملکت اور عوام کے مفاد میں نہیں، ’’گورنر عطا محمد نور کو قانون کا احترام کرنا چاہیے۔ افغانستان حالات جنگ سے دوچار ہے، ایسے میں مزید کشیدگی عوام کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتی ہے‘‘۔ واضح رہے که عطا محمد نور نے حال ہی میں نائب صدر عبد الرشید دوستم کے ہمراه حکومت مخالف ایک اتحاد قائم کیا تها۔ دوستم خود اپنے ایک سیاسی حریف پر جنسی اور جسمانی تشدد کے ایک کیس کے بعد سے ترکی میں مقیم ہے۔ دوستم کے معاملے میں ‌بین الاقوامی قوتوں، خاص طور پر امریکا اور یورپی یونین نے فوری طور پر قانون کی بالادستی کے لیے صدا بلند کی تهی۔ عطا محمد نور کے معاملے میں یه قووتیں بهی فی الحال خاموش ہیں۔

افغانستان کے ایک بڑے اخبار 'سر خط' نے حالات پر تبصره کرتے ہوئے لکها ہے که امریکا نے دبئی میں عطا محمد نور کے اربوں ڈالر مالیت اثاثوں کی جانچ کی ہے اور جلد ہی افغانستان کے اندر بهی ان سے حساب کتاب مانگا جاسکتا ہے۔ 'جمعیت اسلامی افغانستان' البته اس تمام معاملے کو صدر غنی کی خود پرستانہ پالیسیوں کا نتیجه قرار دے رہی ہے۔

DW.COM

اشتہار