افغان نائب صدر رشید دوستم ملک چھوڑ کر ترکی چلے گئے | حالات حاضرہ | DW | 21.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان نائب صدر رشید دوستم ملک چھوڑ کر ترکی چلے گئے

افغان جنگی سردار اور ملکی نائب صدر عبدالرشید دوستم اپنے خلاف تشدد، اغواء اور ریپ کے الزامات کے بعد فرار ہوکر ترکی پہنچ گئے ہیں۔ دوستم کے ایک ترجمان کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اب طویل جلاوطنی کی زندگی گزاریں گے۔

Afghanistan Portät Abdul Rashid Dostum (picture-alliance/dpa/S. Sabawoon)

عبدالرشید دوستم

افغان دارالحکومت کابل سے اتوار اکیس مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق عرف عام میں جنرل عبدالرشید دوستم کہلانے والے ملکی نائب صدر کی افغانستان سے رخصتی کے لیے جو کچھ اور جیسے کہا جا رہا ہے، اس کے مطابق ’دوستم ترکی منتقل‘ ہو گئے ہیں۔

دوستم کی بیرون ملک رخصتی کی تصدیق کرتے ہوئے اس افغان جنگی سردار کے ایک دیرینہ ساتھی اور ترجمان نے بتایا کہ دوستم کی افغانستان سے رخصتی کا ’مطلب یہ نہیں کہ وہ اب طویل عرصہ بیرون ملک جلاوطنی کی زندگی گزاریں گے یا ان کا سیاسی کیریئر اب ختم ہو گیا ہے‘۔

63 سالہ دوستم کے ترجمان نے کہا، ’’دوستم طبی معائنے کے لیے ترکی گئے ہیں اور اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد واپس افغانستان لوٹ آئیں گے۔‘‘

نائب افغان صدر کے خلاف تحقیقات کی جائیں، مغربی ممالک

افغان نائب صدر نے مخالف کو تشدد کے بعد اغواء کر لیا، رپورٹ

جنرل دوستم طالبان کے خلاف اپنے ساتھی متحد کرنے میں مصروف

عبدالرشید دوستم پر گزشتہ برس نومبر میں یہ الزامات لگائے گئے تھے کہ انہوں نے اپنےذاتی محافظوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کے ایک مخالف احمد ایشچی کو اغواء کر لیں۔ ایشچی کے اغواء کے بعد ان پر کئی روز تک تشدد کیا گیا تھا اور ان کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی بھی کی گئی تھی۔

Afghanistan Ahmad Ishchi (Reuters/O. Sobhani)

عبدالرشید دوستم کے سیاسی مخالف احمد ایشچی

افغانستان میں دوستم کے خلاف یہ الزامات ایشچی نے خود عوامی سطح پر لگائے تھے، جس دوران کہا گیا تھا کہ انہیں دوستم کے ذاتی محافظوں نے بزکشی کے ایک مقابلے کے دوران اغواء کیا تھا، جس کے بعد پانچ روز تک ان پر تشدد کرنے کے علاوہ ان سے اجتماعی جنسی زیادتی بھی کی جاتی رہی۔

رشید دوستم افغان عسکریت پسندوں کی ایک ملیشیا کے سابق کمانڈر ہیں اور ان پر کئی طرح کے جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات لگائے جاتے ہیں، جنہیں وہ انہیں ’بدنام کرنے کی سازش‘ قرار دے کرمسترد کرتے ہیں۔

دوستم کے خلاف، خاص طور پر ان کی ملکی نائب صدر کے طور پر حیثیت کی وجہ سے، ان الزامات کے بعد امریکا اور یورپی یونین نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خلاف ان الزامات کی مکمل اور تفصیلی چھان بین کی جائے۔ اس چھان بین کی امریکا اور یورپی یونین کی کابل میں صدارتی محل کی طرف سے یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔

دوستم کے خلاف لگائے گئے الزامات کے بعد اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں صدر اشرف غنی شاید یہ چاہتے تھے کہ دوستم کے خلاف کسی عدالتی مقدمے کے بجائے وہ جلاوطنی اختیار کر لیں۔

Flash-Galerie Burhanuddin Rabbani (AP)

دوستم، دائیں، کی نوے کی دہائی کے وسط میں سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے ساتھ لی گئی ایک تصویر

صدر اشرف غنی نے ازبک نسل کے رشید دوستم کو 2014ء میں اپنا نائب نامزد کیا تھا تاکہ اس طرح وہ اپنے لیے شمالی افغانستان میں ازبک اور دیگر نسلی اقلیتوں کی حمایت حاصل کر سکیں۔ لیکن دوستم کو نائب صدر بنانے کے صدارتی فیصلے پر سخت تنقید بھی کی گئی تھی کیونکہ اس جنگی سردار پر 2001ء میں کابل میں طالبان انتظامیہ کے اقتدار سے علیحدہ کیے جانے کے بعد بھی شدید نوعیت کے جرائم کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔

DW.COM

اشتہار