افغان فوجیوں نے اسلحے کے خول بیچنے شروع کر دیے | حالات حاضرہ | DW | 21.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان فوجیوں نے اسلحے کے خول بیچنے شروع کر دیے

افغانستان میں اضافی آمدنی کے لیے ملکی فوجی اسلحے کے دھاتی خول بیچ رہے ہیں، جس سے گولہ بارود کے ضیاع کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

Afghanistan - Munitionshülsen werden verkauft

سکریپ کے خریدار مختلف علاقوں میں موجود ہیں

ظہیر جان جنوبی افغان صوبے ہلمند میں پرانے لوہے کے ایک بیوپاری ہیں۔ وہ ایک سو پچھتر روپے فی کلو کے بھاؤ سے کارتوس کے خالی خول خریدتے ہیں۔ انہیں کم تنخواہ دار فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے سکریپ کی فراہمی میں کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا جو اضافی آمدن کی تلاش میں رہتے ہیں۔

ظہیر جان کا کہنا ہے کہ اگر افغان فوجیوں کے پاس کارتوس کے خول مناسب مقدار میں نہیں ہوتے تب بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کے بقول وہ بصد خوشی اس وقت تک فائرنگ کرتے رہتے ہیں جب تک خاطر خواہ مقدار میں خول جمع نہ ہو جائیں۔ جان نے کہا، ’’یہ اب ایک اچھا کاروبار بن گیا ہے اور سکریپ کے خریدار مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔‘‘

Afghanistan - Symbolbild Soldat

ایک افغان افسر کے مطابق رواں برس ہلمند اور قندوز میں صرف مئی کے مہینے ہی میں توپ کے سات ہزار گولے داغے گئے ہیں

ایسی سرکاری اور میڈیا رپورٹس بھی مل رہی ہیں کہ پولیس اور فوج کے کچھ افراد طالبان کو بھی اسلحہ اور گولہ بارود فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ معاملہ فوجی کمانڈروں کے لیے بھی ایک مسئلہ ہے کہ گولہ بارود اور ایندھن کی فراہمی کو کیسے کنٹرول میں رکھا جائے۔ فوج کے تکنیکی اور ہتھیاروں کے شعبے میں تعنیات ایک سینیئر افغان افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رواں برس ہلمند اور قندوز میں صرف مئی کے مہینے ہی میں توپ کے سات ہزار گولے داغے گئے ہیں۔ افغان افسر کا مزید کہنا تھا ،’’ہم نے فوجی کمانڈروں سے کہا کہ اگر ایک گولہ ایک شخص کو بھی ہلاک کرے تو اب تک ہم ہر صوبے میں 3.500 طالبان کو ہلاک کر چکے ہوتے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ یہ فوجی بلا ضرورت فائر کرتے ہیں تاکہ خول جمع کر کے انہیں فروخت کر سکیں۔

ہلمند میں چھ ماہ قبل آنے والے ایک اور فوجی افسر کا اندازہ تھا کہ ہر دس میں سے آٹھ فوجی گولہ بارود کے دھاتی خول فروخت کرتے ہیں۔ اس افسر نے بھی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا،’’ ایسا سو فیصد ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات رسد کے مناسب نظام کی کمی کے علاوہ تنخواہوں اور چھٹیوں کا ناکافی ہونا ہے۔‘‘ تنخواہوں اور دیگر مراعات کو بہتر بنانے کی حالیہ کوششوں کے باوجود افغان فوجیوں کے حوصلے بڑھانے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان فوجیوں میں سے بیشتر کئی ماہ اور بہت سے کئی سالوں سے چھٹی پر گھر نہیں گئے اور ماہانہ 200 امریکی ڈالر کماتے ہیں۔

afghanische Grenzsoldaten in Torkham Grenze zu Pakistan

ان فوجیوں میں سے بیشتر کئی ماہ اور بہت سے کئی سالوں سے چھٹی پر گھر نہیں گئے

ہلمند میں کچھ سینیئر افسران کو ایسی اطلاعات سامنے آنے پر ملازمتوں سے فارغ بھی کیا گیا ہے، جن پر اختیارات کے ناجائز استعمال، ما تحت فوجیوں کے ساتھ بدسلوکی اور بد عنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ یہاں تک کہ ان پر فوجیوں کی تنخواہیں چرانے اور چھٹی دینے کے لیے رشوت کا مطابہ کرنے کا الزام بھی تھا۔

افغان وزارت دفاع نے گولہ بارود اور اسلحے کی فراہمی کے اعداد و شمار ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے تاہم حکومت اور فوج کے مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے کم سے کم سات اہلکاروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فروخت کرنے کی غرض سے گولہ بارود کو ضائع کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال ایندھن کے معاہدوں میں بدعنوانی کے حوالے سے ایک اسکینڈل نے بھی اسلحے کی فراہمی پر کنٹرول اور اس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے دباؤ میں اضافہ کیا تھا۔ نیٹو حکام کے مطابق ،’’ یہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔‘‘

DW.COM