افغان طالبان سربراہ کی جانب سے افغانستان میں سکیورٹی کی تعریف | حالات حاضرہ | DW | 01.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان طالبان سربراہ کی جانب سے افغانستان میں سکیورٹی کی تعریف

افغان سپریم لیڈر نے عید الفطر کے موقع پر عوام سے خطاب کے دوران افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کو قابلِ ستائش قرار دیا ہے۔

افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ نے قندھار میں عیدالفطر کی نماز کے موقع پر ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کی تعریف کی۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو آزادی اور کامیابی مبارک ہو۔ اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ جب سے طالبان اقتدار میں آئے ہیں ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اپنے  اس بیان میں انہوں نے افغانستان میں امریکہ کی مداخلت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، '' کیا اس ملک کا پیسہ جو یہاں کے بینکوں میں موجود تھا ان کے پاس نہیں ہے؟‘‘

افغان رہنما پچھلے چھ سالوں میں صرف دو مرتبہ ہی عوام کے سامنے آئے ہیں۔ پچھلے سال اکتوبر میں قندھار میں دارالعلوم حکیمیہ کے دورے کے بعد وہ اب عوام کے سامنے آئے ہیں۔ اخونزادہ کی  عوام میں آمد نے طالبان کی نئی حکومت میں ان کے کردار کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ان کی  موت کی افواہیں بھی دم توڑ گئیں ہیں۔ ان کا عوامی کردار زیادہ تر اسلامی تعطیلات کے دوران پیغامات کے اجراء تک محدود رہا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ  اخونزادہ اپنا زیادہ تر وقت قندھار میں گزارتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:06

طالبان نے منشیات کی کاشت پر پابندی لگا دی

گزشتہ اگست میں کابل کے طالبان کے قبضے میں آنے کے بعد سے ملک بھر میں بم دھماکوں کی تعداد میں کمی آئی۔ تاہم ہفتہ کو ختم ہونے والے رمضان کے مہینے کے آخری دو ہفتوں میں حملوں میں اضافہ ہوا۔ بنیادی طور پر فرقہ وارانہ حملوں میں درجنوں شہری مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری مذہبی انتہا پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں شیعہ اور صوفی مسلم اقلیتوں کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جمعے کو دارالحکومت کابل کی مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہو ئے۔

تاہم عید الفطر سے قبل اخونزادہ  کی جانب سے جاری کردہ ایک پیغام میں بھی انہوں نے اس خونریزی کا کوئی ذکر نہیں کیا جس نے رمضان المبارک کے دوران افغانستان کو ہلا کر رکھ دیا، بلکہ طالبان کو 'ایک مضبوط اسلامی اور قومی فوج‘ اور 'مضبوط انٹیلی جنس تنظیم‘ قرار دیا۔

ر ب/ا ب ا(اے ایف پی)