افغان صدر پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں | حالات حاضرہ | DW | 21.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان صدر پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں

افغان صدر حامد کرزئی نے اسلام آباد حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ اور بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنیاد پر افغان پالیسی نہ بنائے۔

default

افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے منگل کو ایک مقامی ٹیلی وژن کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ پاکستانی حکومت کو افغانستان کے ساتھ تعلقات قائم کرتے ہوئے، علاقائی اور عالمی سطح پر دیگر ممالک کے ساتھ اپنے روابط کو کسوٹی نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد حکومت کی افغانستان کے بارے میں پالیسی غیرجانبدار اور آزاد ہونی چاہیے۔

افغان صدر نے بھارت اور امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’ہم چاہتے ہیں کہ اسلام آباد حکومت کابل کے لیے ایک شفاف پالیسی ترتیب دے۔ اسے افغانستان کے لیے پالیسی بناتے ہوئے یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے امریکہ یا بھارت کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں۔ پاکستان کو ہمارے ساتھ اپنے ایک ہمسایہ ملک کے طور پر برتاؤ کرنا چاہیے‘۔

پاکستانی حکومت پر الزام عائد کیا جاتا ہےکہ وہ علاقائی اثر و رسوخ حاصل کرنےکے لیے افغانستان میں طالبان باغیوں کی مدد کرتی ہے تاکہ وہ اپنے روایتی حریف ملک بھارت کے خلاف اسٹریٹیجک مفادات حاصل کر سکے۔ تاہم اسلام آباد حکومت ایسے الزامات کو ہمیشہ ہی مستردکرتی آئی ہے۔

دریں اثناء چھبیس نومبرکو پاکستانی سرحدی علاقے میں نیٹو کے فضائی حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں بھی انتہائی کشیدگی نمایاں ہو چکی ہے۔ واشنگٹن حکومت کےکئی اعلیٰ اہلکار بھی یہ خیال کرتے ہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں موجود جنگجو افغانستان میں سرحد پار کارروائی کرتے ہیں اور امریکی اور اتحادی افواج کو نشانہ بناتے ہیں۔ امریکی حکومت کاکہنا ہے کہ ان حملوں کو روکنے کے لیے پاکستانی فوج مناسب اقدامات کرے۔

اس تناظر میں افغان صدر نے اب کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ علاقائی سطح پر جاری اسٹریٹیجک مفادات کی لڑائی میں ان کے ملک کوکوئی نقصان پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ 2014ء میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء کے بعد ان کا ملک بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اہم مرکز کا مقام حاصل کر لے۔

تیسری مدت صدارت کے لیے میدان میں نہ اترنے کا اعلان کرنے والے افغان صدرکرزئی نےکہا کہ افغانستان کا آئندہ صدر ایسا ہونا چاہیے، جو ملک کو متحد رکھے اور تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔ حامد کرزئی کی دوسری مدت صدرات 2014ء میں ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان کو ایک مضبوط ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اور اس مقصدکے لیے وہ اپنی خدمات سر انجام دیتے رہیں گے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار