افغان خواتین کے لیے ’سرخ لکیر‘ | حالات حاضرہ | DW | 21.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان خواتین کے لیے ’سرخ لکیر‘

افغان خواتین سوشل میڈیا پر امن کے لیے ’میری سرخ لکیر‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ بحث میں مصروف ہیں۔ ان خواتین کے مطابق طالبان کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے میں خواتین کے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔

کبریٰ صمیم افغانستان کی قومی سائیکلنگ ٹیم کا حصہ ہیں۔ اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی کھیلوں میں شمولیت ان کے لیے ’سرخ لکیر‘ ہے۔

ایک ایسے موقع پر جب امریکا طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدے کے لیے کوشاں ہے، افغان خواتین چاہتی ہیں کہ مستقبل میں طالبان کی حکومت میں کسی ممکنہ شراکت داری سے ان کے حقوق سلب نہ ہوں۔ سابقہ سیاست دان فرخندہ زہرہ نادری نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ خواتین کی فیصلہ ساز عہدوں پر تعیناتی کا تحفظ اور ان کے سماجی کردار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔ انسانی حقوق کی کارکن سمیرا حامدی نے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کو بھی امن مذاکرات میں شامل کیا جائے۔

کیا تیسرے امن مذاکرات جرمنی میں ہوں گے؟

افغان خواتین کی بہبود کا امریکی پروگرام ناکامی سے دوچار

افغانستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سوشل میڈیا پر #MyRedLine کے ہیش ٹیگ کے ساتھ جاری اس مہم میں حصہ لے رہی ہیں، تاکہ حکومت، طالبان اور امریکا پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کسی بھی امن معاہدے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

23 سالہ سائیکلسٹ صمیم کہتی ہیں، ’’اگر طالبان واپس آتے ہیں، تو ہمیں پھر سے تعلیم اور کھیلوں میں شرکت جیسے حقوق سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں گے۔ ہمارے گھروں سے باہر نکلنے پر پھر سے پابندیاں لگ جائیں گی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ہم امن چاہتے ہیں مگر ہم کھیلوں اور سائیکلنگ کو جاری بھی رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

افغان صحافی فرح ناز فروتان، جنہوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کے تعاون سے #MyRedLine مہم کا آغاز کیا، کہتی ہیں، ’’میرے لیے سرخ لکیر میرا قلم اور میری آزادیء اظہار ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ’’اگر امن جنگ کے تمام متاثرہ افراد کو سماجی انصاف مہیا نہیں کرتا، تو یہ پائیدار امن نہیں ہو گا۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ اس ہیش ٹیگ مہم کے آغاز کے بعد سے اب تک ہزاروں خواتین اسے شیئر کر چکی ہیں، حتیٰ کہ صدر اشرف غنی تک نے خواتین کے حقوق کو حکومت کے لیے سرخ لکیر کے ساتھ ٹویٹ کیا ہے۔ فروتان کے مطابق طالبان حکومت میں خواتین کسی بھی دوسرے معاشرتی عنصر کے مقابلے میں سب سے زیادہ کم زور تھیں۔

اس مہم میں انگریزی کے علاوہ پشتو اور دری زبانوں میں بھی خواتین شریک ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی مداخلت کے نتیجے میں طالبان حکومت کے خاتمے سے قبل طالبان نے افغانستان میں اسلام کی سخت ترین تشریحات پر مبنی شرعی قوانین نافذ کر رکھے تھے اور خواتین کو جبری طور پر برقعہ پہننا اور گھروں میں قید رہنا پڑتا تھا، جب کہ ان کے اسکول جانے پر بھی پابندی تھی۔ اس کے علاوہ زنا کے الزامات پر متعدد مرتبہ خواتین کو سرعام سنگ سار تک کیے جانے کے واقعات دیکھے جاتے تھے۔

ع ت، م م (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM