افغان خفیہ ادارے پر حملہ کرنے والے دو جہادی ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 18.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغان خفیہ ادارے پر حملہ کرنے والے دو جہادی ہلاک

افغان سکیورٹی فورسز نے ملکی خفیہ ایجنسی کے تربیتی مرکز میں داخل ہو کر کم از کم دوعسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کی ہے۔

کابل کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق پیر اٹھارہ دسمبر کی صبح میں جو عسکریت پست ملکی خفیہ ادارے کی تربیت گاہ میں داخل ہوئے تھے، انہیں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے بعد خفیہ ادارے کے زیر استعمال چار منزلہ عمارت کی تلاشی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ تلاشی کے عمل میں بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی شامل تھا۔

افغانستان، سکیورٹی فورسز پر ایک اور حملہ

دو افغان صوبوں میں طالبان کے حملے، 37 سکیورٹی اہلکار ہلاک

سکیورٹی فورسز پر افغان طالبان کے حملے طاقت کا اظہار

امریکی ڈرون حملے میں عمر خالد خراسانی کی ہلاکت

حکام نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی ختم کرنے کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے افشار نامی علاقے میں واقع خفیہ ادارے کے تربیتی مرکز پر کیے گئے حملے کی ذمہ داری جہادی گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کر لی ہے۔ اس اعلان میں بتایا گیا تھا کہ داعش کے دو حملہ آور تربیتی ادارے کے اندر کامیابی سے داخل ہو گئے ہیں۔

کابل پولیس کے ترجمان کے مطابق ملک کے سب سے بڑے خفیہ ادارے نیشنل ڈاریکٹوریٹ برائے سکیورٹی کے تربیتی ادارے میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کرنے والے جہادی کوئی بڑا جانی نقصان کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پولیس نے اس کی وجہ سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت اور منظم انداز میں کی جانے والی جوابی کارروائی کو قرار دیا ہے۔

Afghanistan Bewaffnete Angreifer stürmen Geheimdienstgebäude in Kabul (Reuters/O. Sobhani)

کابل میں کیے گئے حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے قبول کر لی ہے

پولیس ترجمان کے مطابق اس حملے کے دوران حملہ آوروں کی فائرنگ سے صرف دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور کسی شخص کی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عسکریت پسندوں کی اندھا دھند فائرنگ سے عمارت کے باہر چلتے پھرتے راہ گیروں میں سے کوئی بھی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

افغانستان میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا قیام سن 2015 میں ہوا تھا۔ اس جہادی گروپ نے ننگر ہار اور کنٹر صوبوں کے بعض اضلاع میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا رکھا ہے۔

اس گروپ کی سرگرمیوں پر افغان حکومت اور امریکی فوج نے نظر رکھی ہوئی ہے۔ اسی تناظر میں افغانستان میں نیٹو مشن کے سربراہ امریکی جنرل نکلسن بھی کہہ چکے ہیں کہ اس جہادی گروپ کے خلاف جلد ہی عسکری کارروائی شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

DW.COM

اشتہار