افغان خاتون دھمکیوں کے باوجود ٹیٹو بنانے میں مصروف | مکالمہ | DW | 16.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مکالمہ

افغان خاتون دھمکیوں کے باوجود ٹیٹو بنانے میں مصروف

افغانستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں ایک خاتون ٹیٹو ماہر ہر کسٹمر کے ساتھ ایک بہت بڑا خطرہ مول لے رہی ہے، مگر دھمکیوں کے باوجود اس کے ہاتھ نہیں لرزتے۔

ٹیٹو بنانے والی فنکارہ ثریا شہیدی گزشتہ اٹھارہ ماہ سے اپنی چلتی پھرتی دکان کے ساتھ کابل میں یہاں وہاں دکھائی دیتی ہیں۔ افغانستان میں ٹیٹو بنانا معاشرتی طور پر ممنوعات میں سے ایک ہے اور ثریا شہیدی کو اس پر قتل تک کی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں، مگر یہ خاتون اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ’’میرے لیے انتہائی مشکلات تھیں، حتیٰ کہ مجھے قتل تک کی دھمکیاں موصول ہوتی رہیں، کیوں کہ افغانستان میں لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیٹو بنانا حرام ہے۔‘‘
 

Henna Malerei Eid Al-Fetr (DW/Zohre Najwa)

حنا سے ہاتھوں پر نقش و نگار کو بھی ٹیٹو کی ایک قسم قرار دیا جاتا ہے

ثزیا شہیدی کی عمر چھبیس برس ہے اور وہ طلاق یافتہ ہیں۔ وہ سنگل ماں کے طور پر کابل میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔ انہوں نے ٹیٹو بنانے کے لیے اپنے مکان کے چھوٹے سے حصے پر عارضی اسٹوڈیو قائم کر رکھا ہے، جہاں وہ اپنے کسٹمرز کی ٹیٹو بنانے کی خواہش پوری کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے کسٹمرز میں خواتین اور مرد دونوں ہی شامل ہیں اور وہ اپنے کام سے عشق کرتی ہیں۔

شہیدی کا یہ خیال ہے کہ اگر طالبان کی حکومت قائم ہو جاتی ہے تو قوی امکان ہے کہ ان کا کاروبار پوری طرح بند ہو جائے گا۔ افغانستان میں دیگر عوام کی طرح شہیدی بھی امن کی متمنی ہیں اور انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ طالبان کی واپسی سے عسکریت پسند حلقے کو فروغ حاصل ہو گا۔

شہیدی کہتی ہیں، ’’مجھے خوشی ہو گی اگر طالبان کے ساتھ بات چیت امن کے قیام میں معاون ثابت ہوتی ہے، لیکن اگر وہ مجھے میرے کام سے روکنے اور سماج میں خواتین کی پیش رفت کو محدود بنانے کی کوشش کریں گے، تو ان کے خلاف کھڑے ہونے والے لوگوں میں سب سے آگے میں ہوں گی۔‘‘

افغان معاشرے میں خواتین کا کردار کئی وجوہات کی بنا پر کم زور رہا ہے جس میں اہم ترین تعلیم کے شعبے میں لڑکیوں پر عائد سماجی پابندیاں ہیں۔ ایشیا فاؤنڈیشن کے ایک جائزے کے مطابق افغانستان میں قریب چالیس فیصد لڑکیوں کو گھر والوں کی جانب سے اسکول جانے کی اجازت نہیں ملتی، جب کہ قریب بیس فیصد لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد اسکول جانے سے روک دیا جاتا ہے۔

 ٹیٹو بنانے والی فنکارہ نے آٹھ برس قبل اپنے شوہر سے طلاق حاصل  لے لی تھی۔ یہ طلاق اس وقت طلب کی تھی جب وہ حاملہ تھیں۔ اب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے والدین کے گھر پر رہتی ہیں۔ انہیں والدین اور بھائی کی سرپرستی حاصل ہے۔

 ٹیٹو بنانے کے کام میں اُن کے والد بھی معاونت کرتے ہیں۔ شہیدی نے سب سے پہلے ترکی میں قیام کے دوران اپنے دائیں ہاتھ پر ٹیٹو بنوایا تھا۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی خاصی فعال ہیں۔ وہ اپنے گاہکوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر ہی رابطہ کر کے ٹیٹو کے لیے وقت مقرر کرتی ہیں۔

ع ح ⁄ ک م (اے پی)

ویڈیو دیکھیے 04:37

فرنیچر کیسے بتاتا ہے کہ لکڑی چوری کی ہے یا نہیں؟

DW.COM