افغان حکومت نے مزید سو طالبان قیدی رہا کر دیے | حالات حاضرہ | DW | 12.04.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان حکومت نے مزید سو طالبان قیدی رہا کر دیے

امریکا اور طالبان کے مابین امن ڈیل کے تحت افغان حکومت نے ملکی جیلوں میں قید مزید سو طالبان رہا کر دیے ہیں۔ افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے مطابق بدھ سے اب تک مجموعی طور پر تین سو طالبان قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

افغانستان کی قومی سلامتی کونسل نے تصدیق کر دی ہے کہ امریکا اور طالبان کے مابین امن ڈیل کے تحت افغان جیلوں میں قید طالبان کے ایک اور گروپ کو رہائی دے دی گئی ہے۔ ہفتے کے روز تیسرے مرحلے میں بھی ایک سو قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ حال ہی میں امریکا اور طالبان نے افغانستان میں قیام امن کی خاطر ایک ڈیل کو حتمی شکل دی تھی، جس میں کئی دیگر شقوں کے علاوہ قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل تھا۔

افغان حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صحت، عمر اور سزا کی مدت کو دیکھتے ہوئے مزید سو قیدیوں کو آزاد کیا گیا ہے۔

یوں بدھ سے لے کر کل ہفتے کے دن تک رہا کیے جانے والے طالبان قیدیوں کی مجموعی تعداد تین سو ہو گئی ہے۔ اس سے قبل بھی افغان حکومت نے دو مرحلوں میں سو سو قیدیوں کو رہا کیا تھا۔ اتوار کے دن ایک افغان اہلکار نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ طالبان قیدیوں کے ایک اور گروپ کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا تاہم اس اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ چوتھے مرحلے میں رہا کیے جانے والے قیدیوں کی تعداد کتنی ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورز ی کررہا ہے: طالبان

افغان حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ان قیدیوں کی رہائی خیر سگالی کے جذبے تک تحت کی جا رہی ہے لیکن ساتھ ہی نئے کورونا وائرس کی عالمی وبا بھی ایک اہم وجہ بنی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ افغان حکام جیلوں میں اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق رہائی کے وقت ان تمام طالبان قیدیوں سے حلف لیا گیا کہ وہ دوبارہ کبھی بھی عسکری کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ دوحہ مذاکرات کے دوران بھی طالبان رہنماؤں نے ان قیدیوں کی رہائی کی خاطر اس شرط کو تسلیم کر لیا تھا۔ امریکی حکام اور افغان طالبان کے مابین دوحہ میں فروری میں طے پانے والی اس ڈیل کے تحت افغان جیلوں میں قید پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کے بدلے طالبان جنگجوؤں کی قید میں موجود ایک ہزار افغان حکومتی اہلکاروں کی رہائی پر بھی اتفاق ہو گیا تھا۔

کابل حکومت کا کہنا ہے افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات سے قبل پندرہ سو طالبان کو رہا کیا جائے گا۔ دوحہ ڈیل کے تحت افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکراتی عمل دس مارچ سے شروع ہونا تھا تاہم اس میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ طالبان کا ابھی تک اصرار ہے کہ داخلی سطح پر اس مذاکراتی عمل کو شروع کرنے سے قبل تمام طالبان قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی جائے۔

ع ب /  م م /  خبر رساں ادارے

DW.COM