افغانستان کو ایک نئے بحران کا سامنا ہے، امریکا | حالات حاضرہ | DW | 29.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان کو ایک نئے بحران کا سامنا ہے، امریکا

جنگ زدہ ملک افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔ اس وقت اس ملک میں طالبان عسکریت پسندوں نے کابل حکومت کے خلاف لڑائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

جنوبی ایشیائی ملک افغانستان میں سے امریکی افواج کا انخلا رواں برس اکتیس اگست کو مکمل ہو جائے گا۔ موجودہ صورت حال کے حوالے سے امریکا کے افغانستان کی تعمیرِ نو کے دفتر (SIGAR) کے خصوصی انسپیکٹر جنرل جان سوپکو نے اپنی رپورٹ میں واضح کہا ہے کہ فروری سن 2020 میں طے پانے والی امن ڈیل کے بعد سے افغانستان کو شدید مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

سیگار ہی وہ امریکی ادارہ ہے جو افغانستان میں تعمیرِ نو کی امریکی کوششوں کی نگرانی کرتا ہے۔

امریکا افغانستان میں موجود رہے گا، امریکی وزیر خارجہ

خصوصی انسپیکٹر جنرل کی رپورٹ

پیش کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق طالبان کی عسکری کارروائیاں سن 2020 کے تین مہینوں یعنی ستمبر سے نومبر کے درمیان غیر معمولی طور پر زیادہ تھیں۔ ان مہینوں کے دوران عسکریت پسندوں نے چھ ہزار سات سو مزید اہداف کو نشانہ بنایا۔

ان تین مہینوں میں حملوں کی مجموعی تعداد تیرہ ہزار دو سو بیالیس تھی۔ امریکی ادارے سیگار کے مطابق نومبر سن 2020 عرصے کے بعد سے اب ہر سہ ماہی میں حملوں کی تعداد دس ہزار سے زائد دیکھی گئی ہے۔

Pakistan Grenzstadt Chaman Menschen mit Taliban-Flagge

افغان طالبان اسپن بولدک پر چڑھائی کے دوران

جان سوپکو کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والی ڈیل میں طالبان نے عہد کیا تھا کہ وہ افغانستان کو عسکری پسندوں کا گھڑ نہیں بننے دیں گے اور کابل حکومت کے ساتھ پرامن حکومت کی بات چیت بھی شروع کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں کی تعداد اب محض چند سو رہ گئی ہے اور طالبان کی کابل حکومت کے ساتھ بات چیت رکاوٹوں کی شکار ہے۔

یہ افغانستان نہیں، امریکا اور عراق کے پیچیدہ باہمی تعلقات

امریکی طالبان ڈیل کے بعد

اس وقت طالبان افغانستان کے بہت بڑے رقبے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ امریکی ادارے سیگار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دوحہ معاہدے کے بعد بظاہر افغانستان کی کم تربیت یافتہ فوج طالبان کے رحم و کرم پر رہ گئی اور اس سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔

نیٹو اور امریکی حکام کے مطابق سن 2020 کی پہلی سہ ماہی میں ہلاکتیں پانچ سو دس اور زخمیوں کی تعداد سات سو نو تھی جبکہ فروری ڈیل کے بعد پرتشدد واقعات اور ہلاک و زخمی ہونے والوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا چلا گیا۔

Afghanistan Menschen unterstützen Regierung gegen Taliban

افغانستان مین عام لوگ طالبان کے خلاف مسلح مہم شروع کرنے کے لیے بظاہر تیار دکھائی دیتے ہیں

گزشتہ برس کی تیسری دہائی میں ایک ہزار سے زائد ہلاک اور دو ہزار کے قریب زخمی تھے۔ رواں برس اپریل اور نئی کے مہینوں میں ہونے والی ہلاکتیں سات سو پانچ اور زخمی ایک ہزار تین سو تیس ہیں۔

طالبان کے افغانستان میں بھارت کا کردار کیا؟

سیگار کے مطابق افغانستان کا مستقبل

امریکی ادارے کے انسپیکٹر جنرل جان سوپکو نے اپنی رپورٹ میں انتہائی مایوس کن تصویر پیش کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جو خبریں اس وقت سامنے آتی جا رہی ہیں وہ بہت پریشانی کا باعث ہیں اور طالبان کی چڑھائی کے جواب میں افغان فوج اپنی موجودہ پوزیشنوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ طالبان کے حملوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس رپورٹ میں شمالی افغانستان کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا جہاں طالبان کا کنٹرول بڑھا ہے حالانکہ یہ ماضی میں طالبان مخالف علاقہ تھا۔ اب دوسری اقوام بھی افغانستان کی صورت حال پر گہری تشویش رکھتی ہیں۔

ع ح/ع ت (ای ایف پی، ڈی پی اے)