1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان میں CIA کی سمت درست نہیں، مائیکل فلِن

7 جنوری 2010

افغانستان میں موجود ایک سینیئر انٹیلی جنس اہلکار نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے افغانستان میں اپنا کام مناسب طور پر انجام نہیں دے رہے۔

https://p.dw.com/p/LOJA
تصویر: AP

امریکہ اور نیٹو کے اعلیٰ فوجی انٹیلی جنس افسر میجر جنرل مائیکل فلِن کی واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک میں چھپنے والی رپورٹ میں اس بات کا بھی اقرار کیا گیا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں کا زیادہ تر کام افغانستان کی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتا۔

مائیکل فلن کی طرف سے یہ رپورٹ امریکی CIA کے ایک ڈبل ایجنٹ کی طرف سے حالیہ خودکش حملے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔ افغان صوبہ خوست کے ایک فوجی بیس پر ہونے والے اس خودکش حملے میں CIA کے سات ایجنٹوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے تھے۔

مائیکل فلن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی تمام تر توجہ عسکریت پسندوں اور ان کی طرف سے کئے جانے والے دھماکوں کا کھوج لگانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق وہاں کام کرنے والا وسیع انٹیلی جنس نظام افغانستان کے لوگوں، ان کے رہن سہن اور زمینی حالات کے بارے میں بنیادی اور اہم معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

Luftbild vom amerikanischen Verteidigungsminsterium Pentagon in Washington 2003
پینٹا گون نے مائیکل فلِن کی رپورٹ تھنک ٹینک میں چھپنے کو بے قاعدگی قرار دیا ہےتصویر: AP

اس حوالے سے ہمارے ساتھی تھامس بیرتھلائن نے بات کی برسلز میں کارنیگی یورپ کے ڈائریکٹر اور افغان امور کے ماہر فیبریس پوٹیئر (Fabrice Pothier) سے۔ پوٹیئر نے اس حوالے سے کہا،

" میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ محض انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سوچ ہے بلکہ میرا خیال ہے کہ پوری بین الاقوامی برادری اور بین الاقوامی سیکیورٹی اداروں کے سوچنے اور کام کرنے کا انداز ہی ایسا ہے۔"

پوٹیئر نے افغانستان میں بین الاقوامی برادری اور انٹیلی جنس اداروں کے کام کرنے کے طریقے اور سوچ کے بارے میں مائیکل فلِن کی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا،"یہ کوئی حیرن کن بات نہیں ہے۔ افغانستان میں گزشتہ کئی برس سے ہم صرف براہ راست دشمن یعنی طالبان پر ہی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ ہم نے وہ پس منظر سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی جس سے طالبان تعلق رکھتے ہیں۔ طالبان غائب سے اچانک نمودار نہیں ہوتے۔ وہ افغانستان سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور زیادہ تر پشتو بولنے والے علاقے سے۔ وہ وہاں کے معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ افغان شہریوں کی اقتصادی، سیاسی اور معاشرتی صورتحال کیا ہے۔ اور نہ ہی ہم نے ان کی ضروریات جاننے کی کوشش کی ہے۔"

پینٹا گون نے افغانستان میں امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل مائیکل فلِن کی یہ رپورٹ واشنگٹن کے ایک نجی تھنک ٹینک میں چپھنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر عمومی اور بے قاعدگی قرار دیا ہے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : مقبول ملک