افغانستان میں سابقہ خاتون صحافی کا قتل | حالات حاضرہ | DW | 12.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان میں سابقہ خاتون صحافی کا قتل

افغانستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک قرار دیا جاتا ہے۔ دارالحکومت کابل میں ایک سابقہ صحافی خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

افغان دارالحکومت کابل میں قتل کی گئی سابقہ خاتون صحافی کا نام مینا منگل بتایا گیا ہے۔ وہ آج کل ملکی پارلیمنٹ کے ساتھ منسلک تھیں۔ کابل میں مقتول خاتون کو اُن کی صحافت کے دور میں کئی حلقے وقعت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

انہوں نے صحافت کے پیشے کے دوران کئی ٹیلی وژن پروگراموں کی میزبانی بھی کی تھی۔ ٹیلی وژن پروگراموں کے سلسلے کو چھوڑ کر انہوں نے پارلیمنٹ کے ثقافتی مشیر کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق مینا منگل کو مشرقی کابل میں دن دیہاڑے گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

افغان خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن وزہمہ فروغ نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر تحریر کیا تھا کہ مینا منگل کو جان کا خطرہ تھا کیونکہ انہیں ہلاک کر دینے کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ خاتون کارکن نے مینا منگل کے قتل پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ افغان خواتین کی مجموعی حالت زار کیا ہے۔

Afghanistan women for equality (AWFE )

افغان خواتین کی حالت کو تبدیل کرنے کی کسی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ابھی تک سب ناتمام ثابت ہوئی ہیں

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سن 2001 میں طالبان کی حکومت کو زوال آیا تھا، اس کے بعد تمام تر حکومتی کوششوں کے باوجود عورتوں کی معاشرتی و سماجی صورت حال میں بہتری لانے کی تمام کوششیں ناکامی سے ہمکنار ہوئی ہیں اور خواتین ابھی تک مرکزی دھارے سے کٹی ہوئی ہیں۔

ابھی تک کسی گروپ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ مینا منگل کا قتل ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل افغان طالبان نے کابل میں ایک امریکی غیر سرکاری تنظیم کے دفتر پر دہشت گردانہ حملہ کر کے کم از کم نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

افغان دارالحکومت کابل میں جرائم کی شرح مسلسل بڑھنے سے لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔

DW.COM