افغانستان میں ’دنیا کے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم‘ سے حملہ | حالات حاضرہ | DW | 13.04.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں ’دنیا کے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم‘ سے حملہ

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا نے افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر ایٹمی بم گرایا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا نے افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر ایٹمی بم گرایا ہے۔ GBU-43/B نامی اس بم کو ’تمام بموں کی ماں‘ کہا جاتا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان ایڈم سٹمپ کے مطابق یہ بم آج تیرہ اپریل بروز جمعرات مقامی وقت کے مطابق شام سات بج کر بتیس منٹ پر گرایا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا اس بم کو افغان صوبے ننگرہار کے آشن نامی ضلع کے قریب واقع غاروں کے ایک سلسلے پر گرایا گیا۔

پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشرقی افغانستان میں واقع غاروں کے ان سلسلوں میں شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جنگ جو چھپے ہوئے تھے۔

اس بم کا پہلا تجربہ سن 2003 میں عراق جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل کیا گیا تھا۔ تاہم اس سے قبل امریکا نے کبھی اس بم کو کسی بھی جنگ کے دوران استعمال نہیں کیا۔ رپورٹوں کے مطابق دنیا کے سب سے بڑا غیر ایٹمی بم سمجھے جانے والے اس بم کا مجموعی وزن 21600 پاؤنڈز یا قریب دس ہزار کلو گرام ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق اس حملے کے بعد افغانستان میں موجود امریکی افواج کو لاحق خطرات میں کمی واقع ہو گی اور داعش کے جنگ جوؤں کو بہت بڑا جانی نقصان پہنچے گا۔

امریکی حکام فی الحال اس بم حملے کے باعث ہونے والی تباہی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکا کا کہنا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے جنگ جو ان غاروں میں چھپ کر خود کو منظم کر رہے تھے اور اسی علاقے میں خود ساختہ بم بھی تیار کیے جا رہے تھے۔

افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی فوج کے سربراہ جنرل جان نکلسن کا کہنا تھا کہ یہ بم ’’افغانستان میں داعش کے خلاف جاری کارروائیوں کے لیے ایک درست انتخاب‘‘ تھا۔

DW.COM

اشتہار