افغانستان میں امریکی دستے، سکیورٹی مزید سخت | حالات حاضرہ | DW | 29.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

افغانستان میں امریکی دستے، سکیورٹی مزید سخت

افغانستان میں امریکی فوجی دستوں کو ان کے اتحادی افغان فوجیوں کے ہلاکت خیز حملوں سے بچانے کے لیے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ان نئے حفاظتی اقدامات میں ایسے نئے محافظ امریکی فوجیوں کی تعیناتی بھی شامل ہے جو اپنے سوئے ہوئے ساتھیوں کی پہرے داری کریں گے۔ ان اضافی محافظ فوجیوں کو محافظ فرشتوں یا ’گارڈیئن اینجلز‘ کا نام دیا گیا ہے۔

امریکی فوج کی میرین کور کے ایک جنرل اور افغانستان میں واشنگٹن کے فوجی دستوں کے اعلیٰ کمانڈر جان ایلن نے ابھی حال ہی میں ان اضافی حفاظتی انتظامات کا حکم دیا تھا تاکہ امریکی فوجیوں کو ان کے افغان اتحادی ساتھیوں کی وجہ سے لاحق ’اندرونی خطرات‘ کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

یہ اقدامات اس پس منظر میں کیے گئے ہیں کہ افغانستان میں سال رواں کے دوران اب تک امریکہ اور دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے اتحادی فوجیوں پر مختلف فوجی مقامات پر افغان سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے کم از کم 16 مرتبہ ہلاکت خیز حملے کیے جا چکے ہیں۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر افغانستان میں فرائض انجام دینے والے درجنوں غیر ملکی فوجی مارے گئے۔ یہ ہلاکتیں اپنی تعداد میں افغانستان میں اس سال کے دوران اب تک جنگی حالات میں اتحادی دستوں کو پہنچنے والے جانی نقصان کا تقریباﹰ پانچواں حصہ بنتی ہیں۔

واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ان حفاظتی اقدامات میں سے بہت سے بظاہر محسوس بھی کیے جا سکتے ہیں جبکہ باقی ایسے نئے انتظامات ہیں جو ظاہری طور پر دیکھنے میں نہیں آتے۔ ایک اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر ایجنسی اے پی کو بتایا کہ اب کئی افغان وزارتوں میں امریکی اہلکاروں کو یہ اجازت بھی مل گئی ہے کہ وہ اپنے ہتھیاروں سمیت وہاں جا سکتے ہیں۔

کابل میں افغان وزارت داخلہ کی عمارت شہر میں مختلف وزارتوں کی عمارات میں سے سب سے سخت سکیورٹی انتظامات والی عمارت تصور کی جاتی ہے۔ وہاں بھی 25 فروری کو ایک افغان سکیورٹی اہلکار کے ہاتھوں اس وزارت کے لیے مشیروں کا کام کرنے والے دو امریکی فوجی افسران اپنے دفاتر میں ہی مارے گئے تھے۔

ان ہلاکتوں کے بعد مختلف افغان وزارتوں میں کام کرنے والے تین سو سے زائد غیر ملکی مشیروں کو واپس بلا لیا گیا تھا۔ ان میں سے اب تک کئی درجن مشیر دوبارہ اپنا کام شروع کر چکے ہیں تاہم باقی اہلکاروں کو کہنا ہے کہ وہ تب تک اپنے فرائض کی دوبارہ انجام دہی شروع نہیں کریں گے جب تک کہ افغان حکام کی طرف سے ان کی سلامتی کے لیے اضافی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

اس کے علاوہ ایسے حملوں کے تازہ ترین لیکن دو مختلف واقعات میں مارچ کی تیسری دہائی کے وسط میں افغان دستوں کے دو مسلح ارکان کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں ایک اور امریکی فوجی اور دو برطانوی سپاہی ہلاک کر دیے گئے تھے۔

افغانستان میں امریکی فوجیوں کے لیے ان نئے لیکن اضافی حفاظتی اقدامات سے پہلے نیٹو فوجیوں پر مقامی سپاہیوں یا سکیورٹی افسران کی طرف سے جو ہلاکت خیز حملے کیے گئے تھے، ان میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بگرام کے امریکی فوجی اڈے پر فروری میں قرآن سوزی کے واقعات بھی تھے۔ ان واقعات کے بعد ملک میں کئی روزہ خونریز احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے جن میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔

ان واقعات کے علاوہ افغان عوام کے ساتھ ساتھ ملکی سکیورٹی دستوں میں بھی نیٹو فوجیوں کے بارے میں انفرادی سطح پر پائے جانے والے منفی جذبات میں اضافہ گیارہ مارچ کے ایک واقعے کے سبب بھی ہوا تھا۔ تب 11 مارچ کو مبینہ طور پر ایک امریکی فوجی نے فائرنگ کر کے 17 افغان شہریوں کو قتل کر دیا تھا۔ ان ہلاک شدگان میں نو بچے بھی شامل تھے۔

افغانستان سے امریکی دستوں سمیت نیٹو فوجیوں کا زیادہ تر انخلاء اب تک کے پروگرام کے مطابق سن 2014 کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف توقیر

اشتہار