افغانستان ميں پاسپورٹ کے اجراء کا عمل بحال | حالات حاضرہ | DW | 18.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان ميں پاسپورٹ کے اجراء کا عمل بحال

افغان طالبان نے ملک ميں پاسپورٹ کے اجراء کا عمل بحال کرنے کا اعلان کر ديا ہے۔ عوام کو ملک چھوڑنے کی آزادی بين الاقوامی برادری کو دی گئی ضمانتوں ميں سے ايک ہے جس سے افغانستان کے ليے امداد کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

افغان طالبان نے اعلان کيا ہے کہ اتوار انيس دسمبر سے ملک ميں پاسپورٹ کے اجراء کا عمل بحال کر ديا جائے گا۔ طالبان کی وزارت داخلہ ميں پاسپورٹ جاری کرنے والے محکمے کے سربراہ عالم گل حقانی نے بتايا ہے کہ تمام تکنيکی مسائل دور کر ديے گئے ہيں اور اتوار سے ان افراد کے پاسپورٹ کا اجراء شروع ہو جائے گا، جنہوں نے کئی ماہ سے درخواستيں دے رکھی ہيں۔ نئی درخواستيں دس جنوری سے جمع کرائی جا سکتی ہيں۔

طالبان نے بیرونی امداد کے بغیر اپنا پہلا بجٹ تیار کر لیا

طالبان امریکا اور دیگر سابق 'دشمنوں' سے تعلقات استوار کرنے کے خواہاں

اقوام متحدہ میں افغان سفیر مستعفی، کیا طالبان کی کوششیں کامیاب ہوگئیں؟

طالبان کی طرف سے پندرہ اگست کو کابل پر قبضے کے بعد سے دیگر انتظامی و سیاسی معاملات میں تعطل کی طرح پاسپورٹس کے اجراء کا عمل بھی رک گیا تھا۔ لاکھوں افغان ملک سے نقل مکانی کا ارادہ رکھتے ہيں اور ان کے ليے يہ ايک مثبت پيش رفت ہے۔

طالبان نے اکتوبر ميں مختصر مدت کے ليے پاسپورٹ دفتر کھولا تھا تاہم بائيو ميٹرک نظام ميں نقص کی وجہ سے انہيں دفتر دوبارہ بند کرنا پڑ گيا تھا۔ اس کی ايک وجہ يہ بھی تھی کہ لاکھوں لوگ سفری دستاويز بنانے کے ليے درخواستيں جمع کرانے آن پہنچے تھے۔

پاسپورٹ کا اجراء طالبان کی جانب سے بين الاقوامی برادری کو دی گئی ضمانتوں ميں سے ايک ہے۔ طالبان نے يہ يقين دہانی کرائی تھی کہ جو لوگ ملک چھوڑنا چاہتے ہيں اور اس کے اہل ہيں انہيں روکا نہيں جائے گا۔

افغانستان کو ان دنوں شديد بحرانوں کا سامنا ہے، جن ميں سب سے اہم کھانے پينے کی اشياء کی قلت ہے۔ مغربی حمايت يافتہ اشرف غنی کی حکومت نے اپنے آخری دنوں ميں اور طالبان کی کابل پر چڑھائی کے تناظر ميں لاکھوں ڈالر کی امداد رکوا دی تھی۔ اب طالبان کا مطالبہ ہے کہ لوگوں کی مدد اور شديد اقتصادی بحران سے نمٹنے کے ليے يہ امداد بحال کی جائے۔

اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام کے مطابق امدادی رقوم کی اچانک معطلی سے سالہا سال سے جنگ سے تباہ حال افغان معيشت کو ايک اور دھچکا لگا۔ نوبت يہاں تک آ گئی ہے کہ افغان شہری، بنيادی ضروريات پوری کرنے کے ليے اپنے گھر بار کا سامان بيچنے پر مجبور ہو گئے ہيں۔

پاکستان ميں او آئی سی کا اجلاس، مقصد افغانستان کی مدد

اسی تناظر ميں پاکستانی دارالحکومت ميں اتوار کے روز 'آرگنائزيشن آف اسلامک کوآپريشن‘ کا اجلاس ہو رہا ہے۔ اس اجلاس ميں ستاون مسلم ممالک اس بات کا جائزہ ليں گے کہ افغانستان کی کس طرح مدد کی جائے۔

میزبان ملک پاکستان خطے کے ديگر ملکوں پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان ميں طالبان کی عمل داری میں شہریوں کو ضروری امداد پہنچائی جائے۔ تاہم وزيرخارجہ شاہ محمود قريشی نے واضح کيا کہ او آئی سی کے اجلاس کے انعقاد کا مطلب يہ نہيں طالبان کو سرکاری طور پر تسليم کيا جا رہا ہے بلکہ يہ صرف افغان عوام کی مدد کی کوشش ہے۔ پچھلے دنوں کئی حلقوں ميں يہ بات کی جا رہی تھی کہ او آئی سی کو افغانستان کے ليے کچھ کرنا چاہيے۔

ویڈیو دیکھیے 02:13

طالبان کے افغانستان میں روٹی بھی ملے گی کیا؟

افغانستان کے ليے سعودی امداد

قبل ازيں اسی ہفتے جمعرات کو سعودی عرب نے بھی افغانستان کے ليے امداد روانہ کی تھی۔ امدادی سامان سے لدے دو ہوائی جہاز رياض سے کابل کے ليے روانہ ہوئے تھےجن کے ذريعے مجموعی طور پر پينسٹھ ٹن امدادی سامان عطيہ کيا گيا۔

اگست ميں طالبان کی عمل داری کے بعد رياض حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ امدادی سامان افغانستان بھيجا گيا ہے۔ حکام نے مزيد بتايا کہ مجموعی طور پر چھ پروازوں ميں قريب دو سو ٹن امدادی سامان بھيجا جائے گا اور پاکستان کے راستے دو سو ٹرکوں پر بھی سامان فراہم کيا جانا ہے۔

ع س / ع ب (اے ایف پی)