افغانستان سے 90 فیصد امریکی فوج کا انخلاء مکمل | حالات حاضرہ | DW | 07.07.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان سے 90 فیصد امریکی فوج کا انخلاء مکمل

امریکی سنٹرل کمان نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلاء جاری ہے، اب تک 90 فیصد سے زیادہ انخلاء مکمل ہوچکا ہے۔ اورسات فوجی اڈے باضابطہ طور پر افغان وزارت دفاع کے حوالے کردیے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریبا ً ایک ہزار سی۔17مال بردار طیاروں کے ذریعے فوجی سازو سامان افغانستان سے باہر منتقل کیا جاچکا ہے جبکہ بہت سارے فوجی آلات ٹھکانے لگانے کے لیے ڈیفنس لاجسٹکس ایجنسی کے حوالے کیے گئے ہیں۔

پنٹاگون کی طرف سے یہ اعلان امریکی صدر جو بائیڈن کے اس فیصلے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کو گیارہ ستمبر تک نکال لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیٹو کے دیگر رکن ممالک بھی امریکا کے ساتھ تال میل کرکے اپنی اپنی فوج کو بڑی تیزی سے افغانستان سے نکال رہے ہیں۔

جرمنی نے اپنی تمام فوج کو افغانستان سے نکال لیا ہے۔ ایک جرمن سفارت کار نے منگل کے روز بتایا کہ شمالی افغانستان کے مزار شریف میں واقع اس کا قونصل خانہ بند کردیا گیا ہے۔

Afghanistan | Bildergalerie | Truppenabzug

بگرام فوجی اڈہ

بگرام فوجی اڈہ خاموشی سے خالی کر دیا

گزشتہ ہفتے امریکا اور نیٹو کے تمام افواج نے افغانستان کا سب سے بڑا فوجی اڈہ بگرام ایئر بیس خالی کردیا تھا۔

افغان حکام نے دعوی کیا ہے کہ امریکی فوج انہیں کوئی اطلاع دیے اور فوجی اڈے کا نیا افغان کمانڈر مقرر کیے بغیر ایئر بیس چھوڑ کر چلے گئے۔ امریکی فوج کے جانے کے کے دو گھنٹے سے زائد وقت کے بعد اس کا پتہ چلا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ایئرفیلڈ میں تقریباً پانچ ہزار قیدی بھی موجود ہیں جن میں سے بیشتر طالبان ہیں۔

'جب آقا ہار گئے تو غلام کیا جنگ لڑیں گے' :طالبان

20 برس بعد بگرام ایئر بیس واپس افغانوں کے حوالے

اس سے پہلے افغان کمانڈر جنرل میر اسد کوہستانی نے کہا تھا کہ امریکی فوج رات کی تاریکی میں بتیاں بجھا کر بگرام بیس سے واپس چلی گئی، افغان حکام کو بھی دو گھنٹے بعد پتہ چلا۔

غیرملکی افواج کی واپسی شروع ہونے کے ساتھ ہی طالبان نے شمالی افغانستان اور ملک کے دیگر حصوں میں حکومتی فورسز کے ساتھ جنگ کے بعد متعدد اضلاع پر قبضے کرلیے ہیں۔

Afghanistan US Soldaten in der Provinz Nangarhar

بیس سالہ جنگ کے دوران امریکا کے 2312 فوجی مارے گئے

افغان فورسیز کا طالبان کی پیش قدمی روکنے کا عزم

افغان سکیورٹی فورسیز نے طالبان کے ذریعہ حال ہی میں قبضہ میں لیے گئے اضلاع کو دوباہ واپس لینے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کے قومی سلامتی مشیر حمداللہ محب نے منگل کے روز نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،”یہ جنگ ہے، یہ دباو ہے۔ بعض اوقات حالات ہمارے موافق ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات وہ ہمارے موافق نہیں ہوتے تاہم ہم افغان عوام کا دفاع کرتے رہیں گے۔"

افغانستان: ہندوکش میں طاقت کے حصول کی جدوجہد

جرمن فورسز کا افغانستان سے انخلاء مکمل

 انہوں نے مزید کہا،”ہم نے تمام اضلاع دوبارہ واپس لینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔"

طالبان کے ساتھ زبردست جنگ کی وجہ سے پیر کے روز ہزاروں افغان فوجی پڑوسی ملک تاجکستان فرار ہو گئے۔ حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سیکورٹی اہلکار اب جنگ کے لیے واپس لوٹ رہے ہیں۔

ادھر تاجکستان نے افغانستان کے ساتھ ملحق اپنی سرحد کو محفوظ رکھنے کے لیے بیس ہزار فوج تعینات کردی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے القاعدہ کے خلاف جنگ کے لیے سن 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ امریکا نائن الیون کے دہشت گردانہ حملے کے لیے القاعدہ کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ امریکا نے افغانستان پر حملے کے بعد طالبان کو اقتدار سے معزول کر دیا تھا اور ملک کی حفاظت کے لیے افغان سکیورٹی فورسیز اور پولیس کو تربیت دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا نے اس بیس سالہ جنگ کے دوران بیس کھرب ڈالر خرچ کردیے اور اس کے 2312 فوجی مارے گئے۔

 ج ا/ ص ز  (اے ایف پی، روئٹرز)