افغانستان سے پاکستانی مہاجرین کی واپسی کا دوسرا مرحلہ شروع | مہاجرین کا بحران | DW | 26.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

افغانستان سے پاکستانی مہاجرین کی واپسی کا دوسرا مرحلہ شروع

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے بے گھر ہو کر افغانستان میں پناہ لینے والے پاکستانی مہاجرین کی واپسی کا دوسرا مرحلہ آج پیر 26 فروری سے شروع ہوگیا ہے۔

اس مرحلے کے پہلے دن شمالی وزیر ستان کے پچاس خاندان افغانستان کے صوبہ خوست سے پاکستانی سرحد مقام غلام خان کے راستے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ شمالی وزیر ستان کی پولیٹیکل انتظامیہ نے ان متاثرین کے لیے غلام خان چیک پوسٹ کے قریب کیمپ قائم کیا ہے جہاں ابتدائی رجسٹریشن اور بچو‌ں کو ویکسین کے بعد انہیں ‌خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے بکا خیل میں بنائے گئے کیمپ میں منتقل کیا جائے گا۔

شمالی وزیر ستان کے پولیٹیکل ایجنٹ کامران خان آفریدی نے ان متاثرین کو خوش آمدید کہا اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینے کے لے چیک پوسٹ کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ان متاثرین کو بنوں میں قائم بکا خیل کیمپ پہنچایا جائیگا جس کے لیے انہیں مفت ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی۔ کیمپ میں چھ ماہ تک انہیں رہائش اور اشیا خورد و نوش فراہم کی جائی گی۔‘‘ آفریدی کے مطابق ان متاثرین کی واپسی افغان حکام سے کامیاب مذاکرات کی بدولت ہوئی ہے۔

پاکستانی مہاجرین کی واپسی کے اس دوسرے مرحلے کے دوران افغانستان سے چار ہزار تین سو انتیس خاندانوں کو غلام خان چیک پوسٹ کے راستے پاکستان واپس لایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے دوران شمالی وزیر ستان سے تقریباﹰ ایک لاکھ افراد نے نقل مکانی کر کے افغانستان کے صوبہ خوست، پکتیکا اور پکتیا میں پناہ لی تھی۔ افغانستان کے صوبہ خوست کے’’ گلان‘‘ مہاجر کیمپ میں سولہ ہزار چار سو چوالیس مہاجرین رجسٹر کیے گئے تھے۔

Pakistan Flüchtlinge aus Afghanistan erreichen Peschawar

شمالی وزیر ستان کے پولیٹیکل ایجنٹ کامران خان آفریدی نے ان متاثرین کو خوش آمدید کہا۔

اسی طرح پکتیکا میں اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے نے چھتیس ہزار پاکستانی مہاجرین کی بائیو میٹرک تصدیق کی تھی جبکہ صوبہ خوست میں اکیاون ہزار افراد کی تصدیق کی گئی تھی۔ پاکستان سے افغانستان جانے والے شمالی وزیر ستان کے قبائلیوں کی ایک بڑی تعداد وہاں اپنے رشتہ داروں کے ہاں ٹھہری تھی۔

ان متاثرین کی امد اور دوبارہ بحالی کے حوالے سے فاٹا ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عادل خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پختون‍خوا کے ضلع بنوں کے بکا خیل نامی کیمپ میں ان متاثرین کی رہائش کا دروانیہ چھ ماہ تک ہوسکتا ہے۔ وہاں انہیں ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ رجسٹریشن کے مراحل کے بعد جب یہ لوگ اپنے گھروں میں واپس جائیں گے تو گھروں کے سروے کے بعد انہیں گھروں کی تعمیر و بحالی کے لیے ایک اور سروے کا اغاز کیا جا ئے گا۔‘‘

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان نے شمالی وزیر ستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف آاپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سال 2014 کے دوران شمالی وزیر ستان کے زیادہ تر رہائشی  قبائلی علاقوں سے ملحقہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور دیگر اضلاع میں منتقل ہوگئے تھے۔ اس آپریشن کے بعد علاقے کو کلیئر قرار دینے کے بعد ان کی واپسی شروع کی گئی۔ یہاں موجود آئی ڈی پیز واپس اپنے گھروں میں پہنچ گئے۔ تاہم افغانستان منتقل ہونے والے والے قبائلی خاندانوں کو واپس لانے میں وقت لگا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت پاکستان میں ستائیس ملین سے زائد افغان رہائش پذیر ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہائش پذیر ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں ان کی قیام میں ساتویں بار توسیع کی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کو اگلے دوسال میں واپس بلا لیا جائے گا تاہم زیادہ ترافغان مہاجرین واپسی کے لیے تیار نہیں ہیں۔

DW.COM