1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Afghanistan Taliban Medien Banafsha Binesh
تصویر: Hussein Malla/AP Photo/picture alliance
معاشرہافغانستان

افغانستان، خواتین ٹی وی میزبانوں کو چہرے ڈھانپنے کا حکم

19 مئی 2022

افغان طالبان نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے، جس میں تمام ٹی وی چینلز پر آنے والی خواتین کو چہرہ ڈھانپنے یا نقاب کرنے کا کہا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق طالبان آہستہ آہستہ خواتین کے خلاف پابندیوں میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D9%86-%D9%B9%DB%8C-%D9%88%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92-%DA%88%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%BE%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%DA%A9%D9%85/a-61858559

کابل میں موجود صحافیوں نے جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے اس حکم نامے کی تصدیق کی ہے جبکہ افغانستان کے سب سے بڑے میڈیا چینل طلوع نیوز نے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس حکم نامے کے حوالے سے اطلاع دی ہے۔

اس افغان ٹیلی وژن کے مطابق طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے، ''اس نئے حکم نامے کے حوالے سے تمام ٹیلی وژن چینلز کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ یہ حتمی ہے اور اس حوالے سے کسی بحث کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

جمعرات کو خواتین اینکرز اور پریزنٹرز کی ایسی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن میں انہوں نے ماسک پہن رکھے ہیں۔

ایک ٹیلی وژن پروڈیوسر کا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکم نامے کے مطابق خواتین کی صرف آنکھیں دکھانے کی اجازت فراہم کی گئی ہے۔

ایک دوسرے پروڈیوسر نے جرمن نیوز ایجنسی کو بتایا، ''ہمیں بتایا گیا ہے کہ بصری میڈیا پر تمام خواتین ملازمین کے لیے اپنے چہرے چھپانا لازمی ہے۔ آج آخری الٹی میٹم تھا۔ کچھ میڈیا ہاؤسز نے آج اس فیصلے کا اطلاق کیا ہے جبکہ دوسرے کل سے ایسا کرنا شروع کر دیں گے۔‘‘

تاہم طالبان کی جانب سے ابھی تک عوامی سطح پر اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ لیکن یہ تازہ ترین قانون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب طالبان نے عوامی سطح پر آنے والی تمام خواتین کے لیے نقاب کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔

ا ا / ب ج ( ڈی پی اے)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

شہباز گل کی گرفتاری، پاکستانی سیاست میں مزید تناؤ کا خدشہ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں