افغانستان، خواتین ٹی وی میزبانوں کو چہرے ڈھانپنے کا حکم | سیاست | DW | 19.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سیاست

افغانستان، خواتین ٹی وی میزبانوں کو چہرے ڈھانپنے کا حکم

افغان طالبان نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے، جس میں تمام ٹی وی چینلز پر آنے والی خواتین کو چہرہ ڈھانپنے یا نقاب کرنے کا کہا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق طالبان آہستہ آہستہ خواتین کے خلاف پابندیوں میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔

کابل میں موجود صحافیوں نے جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے اس حکم نامے کی تصدیق کی ہے جبکہ افغانستان کے سب سے بڑے میڈیا چینل طلوع نیوز نے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس حکم نامے کے حوالے سے اطلاع دی ہے۔

اس افغان ٹیلی وژن کے مطابق طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے، ''اس نئے حکم نامے کے حوالے سے تمام ٹیلی وژن چینلز کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ یہ حتمی ہے اور اس حوالے سے کسی بحث کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

جمعرات کو خواتین اینکرز اور پریزنٹرز کی ایسی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن میں انہوں نے ماسک پہن رکھے ہیں۔

ایک ٹیلی وژن پروڈیوسر کا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکم نامے کے مطابق خواتین کی صرف آنکھیں دکھانے کی اجازت فراہم کی گئی ہے۔

ایک دوسرے پروڈیوسر نے جرمن نیوز ایجنسی کو بتایا، ''ہمیں بتایا گیا ہے کہ بصری میڈیا پر تمام خواتین ملازمین کے لیے اپنے چہرے چھپانا لازمی ہے۔ آج آخری الٹی میٹم تھا۔ کچھ میڈیا ہاؤسز نے آج اس فیصلے کا اطلاق کیا ہے جبکہ دوسرے کل سے ایسا کرنا شروع کر دیں گے۔‘‘

تاہم طالبان کی جانب سے ابھی تک عوامی سطح پر اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ لیکن یہ تازہ ترین قانون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب طالبان نے عوامی سطح پر آنے والی تمام خواتین کے لیے نقاب کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔

ا ا / ب ج ( ڈی پی اے)