افغانستان: امریکی فوجی اڈے کے باہر خودکش حملہ، پانچ افراد زخمی | حالات حاضرہ | DW | 11.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان: امریکی فوجی اڈے کے باہر خودکش حملہ، پانچ افراد زخمی

افغانستان کے بگرام میں قائم سب سے بڑے امریکی کے سب سے بڑے فوجی اڈے کے باہر آج بدھ کو ایک خودکش دھماکا ہوا، جس میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

افغان ذرائع کے مطابق یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے کے قریب بگرام فوجی اڈے کے داخلی دروازہ کے نزدیک واقع ایک ہسپتال کے پاس ہوا۔ پروان صوبہ، جہاں یہ فوجی اڈہ واقع ہے،کے گورنر کی ترجمان وحیدہ شاہکار نے بتایا کہ فوجی اڈے کے جنوبی داخلی دروازے پر ہوئے اس خودکش حملہ میں زخمی ہونے والے تمام افراد افغان شہری ہیں۔
انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’حملہ آوروں اور غیر ملکی فوجیوں کے درمیان تیس منٹ تک تصادم بھی ہوا۔ حملہ آور بظاہر فوجی اڈے کے اندر داخل ہونا چاہتے تھے۔“

کابل سے کوئی پچاس کلومیٹر شمال میں واقع بگرام فضائی اڈہ امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ بگرام ضلع کے گورنر عبدالشکور قدوسی نے بتایا کہ حملہ آوروں اور غیر ملکی افواج کے درمیان فائرنگ بھی ہوئی۔ بین الاقوامی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔

افغانستان میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی قیادت والے مشن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ”حملے کو ناکام بنادیا گیا اور امریکا یا اتحادی افواج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ لیکن مقامی لوگوں کے لیے قائم کیے گئے ہسپتال کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔“

سوشل میڈیا پر جاری تصویروں میں اس علاقے میں دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور طالبان جنگجوؤں کے مابین  تعطل کے شکار امن مذاکرات کے ابھی حال ہی میں بحال ہو گئے ہیں۔ دھما کے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی تنظیم  نے قبول نہیں کی ہے۔


ج ا / ع ا روئٹرز، ڈی پی اے
 

DW.COM