افغانستان: اسلامک اسٹیٹ کا لیڈر ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 27.08.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغانستان: اسلامک اسٹیٹ کا لیڈر ہلاک

افغان حکام کے مطابق دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ایک اہم لیڈر کو فضائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ فضائی حملہ پچیس اگست کی رات میں امریکی جنگی طیاروں نے کیا تھا۔

اس کے تین پیش رو بھی افغانستان میں کیے جانے والے فضائی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ اب اسلامک اسٹیٹ کا رہنما ابو سعد ارہابی بھی بہت ہی منظم انداز میں کی گئی ایک فضائی کارروائی میں مارا گیا۔ صوبہ ننگر ہار میں کی جانے اس کارروائی میں اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں پر بھی زمینی حملے بھی کیے گئے۔

افغان سکیورٹی حکام نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے چوتھے بڑے لیڈر ارہابی کی ہلاکت کی باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے۔ افغانستان میں متعین امریکی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنا مارٹن او ڈونل نے بتایا ہے کہ ابو سعد ارہابی ہفتہ پچیس اگست کی رات کو کی گئی ایک امریکی فضائی کارروائی میں مارا گیا۔

افغانستان کے خفیہ ادارے’ این ڈی ایس‘ کے مطابق اس فضائی حملے میں اسلامک اسٹیٹ کے دیگر دس جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔ جولائی سن 2017 کے بعد اس دہشت گرد گروپ کے اس چوتھے اہم لیڈر کی ہلاکت کو اس گروپ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا ہے۔

افغان سکیورٹی فورسز نے اس گروپ کے دو ٹھکانوں پر دھاوا بول کر گولہ بارود کے ایک بڑے ذخیرے کو تباہ کر دیا ہے۔ اسلامک اسٹیٹ افغانستان کے مشرقی صوبوں میں متحرک ہے ۔

یہ امر اہم ہے کہ رواں مہینے کے دوران ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ڈیڑھ سو سے زائد جنگجوؤں نے جوزجان صوبے میں افغان سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار پھینکے تھے۔ یہ بھی اہم ہے کہ یہ گروپ وسطی ایشیائی ریاست ترکمانستان کے ساتھ اسمگلنگ کے راستوں کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہے۔

افغانستان میں ’اسلامک اسٹیٹ سن 2015 سے فعال ہے اور اس کو عام طور پر اس کے پرانے نام ’اسلامی ریاست خراسان‘ کے حوالے سے بھی پکارا جاتا ہے۔

DW.COM