اعلیٰ کونسل برائے افغان قومی مصالحت، ارکان کے ناموں کا اعلان | حالات حاضرہ | DW | 30.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اعلیٰ کونسل برائے افغان قومی مصالحت، ارکان کے ناموں کا اعلان

افغان صدر اشرف غنی نے اعلیٰ کونسل برائے افغان قومی مصالحت کے نئے سربراہ اور ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کابل حکومت کی طرف سے افغان طالبان کے ساتھ مجوزہ امن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

کابل سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق صدر اشرف غنی نے یہ اعلان ہفتہ انتیس اگست کو رات گئے کیا اور کہا کہ اس اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے نئے ارکان کے طور پر ملکی سطح کے سیاست دانوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ ملک میں خانہ جنگی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے قومی اتفاق رائے کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس کونسل کے نئے ارکان کے طور پر جن شخصیات کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں سرکردہ سیاست دان، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور نمایاں مذہبی شخصیات بھی شامل ہیں۔ اس بارے میں صدارتی حکم نامے کے ساتھ اس کونسل کے ارکان کو یہ فریضہ بھی سونپا گیا ہے کہ انہیں ایک ہفتے کے اندر اندر ایک ایسی جنرل اسمبلی تشکیل دینا ہو گی، جس میں علماء، ارکان پارلیمان، صوبائی کونسلروں اور نجی شعبے کی شخصیات کے علاوہ اہم سیاست دان اور ملکی میڈیا کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

ان ارکان میں خاتون صرف ایک

صدر اشرف غنی کے اس اعلیٰ کونسل کے ارکان سے متعلق کیے گئے اعلان کے بعد اس پر اس حوالے سے شدید تنقید بھی دیکھنے میں آئی کہ جن اراکین کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں خاتون صرف ایک ہے اور باقی سب کے سب مرد۔

اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے افغانستان میں انسانی حقوق کے غیر جانبدار کمیشن کی صدر شہر زاد اکبر نے کہا کہ اس نئی کونسل کی مرکزی قیادت اور اس کے ارکان میں نوجوانوں اور خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا، ''ذرا سوچیے کہ یہ اعلان اس حوالے سے افغان عوام کو کیا پیغام دے گا، جو یہ چاہتے ہیں کہ اس عمل میں معاشرے کے ہر طبقے کی شمولیت ایک بنیادی تقاضا ہے۔‘‘

اعلیٰ کونسل کا بنیادی کام

افغانستان میں اعلیٰ کونسل برائے قومی مصالحت ایک ایسا ادارہ ہے، جس کے ارکان کی تعداد 21 ہوتی ہے اور جس کا کام طالبان عسکریت پسندوں کی قیادت یا اس کے نمائندوں کے ساتھ بالمشافہ امن مذاکرات کی نگرانی کرنا ہے۔

عشروں سے خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں کافی عرصے سے یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ کابل حکومت اور طالبان کے مابین براہ راست اور باقاعدہ امن بات چیت کا آغاز ہو سکے۔ اب تک لیکن ناموافق زمینی حقائق اور کئی طرح کی سیاسی مشکلات کے سبب یہ عمل شروع نہیں ہو سکا۔

م م / ع س (ڈی پی اے، اے ایف پی)

DW.COM