اعلیٰ امریکی جنرل کا شمالی شام کا خفیہ دورہ | حالات حاضرہ | DW | 25.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اعلیٰ امریکی جنرل کا شمالی شام کا خفیہ دورہ

امریکا کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ نے شام کے شمالی علاقے کا خفیہ دورہ کیا ہے اور کرد باغی لیڈروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان باغی لیڈروں کا تعلق شام میں سرگرم باغی گروپ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز سے ہے۔

US-General Joseph Votel (picture alliance/ZUMA Press/Y. Bogu)

امریکا کی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل

امریکا کی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے انتہائی خفیہ انداز میں شمالی شام کا ایک اور دورہ کیا ہے۔ جمعہ چوبیس فروری کو جنرل ووٹل نے شمالی شام کے کرد علاقے میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے مرکزی نمائندوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ اس دورے کی تصدیق سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے کر دی ہے۔ اِس مسلح عسکری گروپ میں کرد جنگجُوؤں کے علاوہ مقامی عرب فائٹرز بھی شامل ہیں۔

شمالی شام کے اِس باغی گروپ کے ترجمان طلال سیلو نے بتایا کہ امریکی جنرل کے ساتھ شام کی مجموعی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے ایس ڈی ایف کی عسکری کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیلو نے بتایا کہ امریکی جنرل نے مستقبل میں بھاری ہتھیار فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ انہوں نے امریکی جنرل کے دورے کو انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیا۔  جنرل ووٹل ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے اعلیٰ فوجی افسر ہیں جنہوں نے شمالی شام کا دورہ کرتے ہوئے مقامی باغی رہنماؤں سے ملاقات کر کے تبادلہٴ خیال کیا ہے۔

Syrien Rebellen der Syrischen Democratischen Kräfte geben Pressekonferenz in Rakka (REUTERS/R. Said)

سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے مرکزی لیڈران

طلال سیلو نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی جنرل نے وعدہ کیا ہے کہ حلب کے ایک شہر مَنبِج کو ترک فوجی حملے سے بچایا جائے گا۔ امریکی فوج کے ہیڈکوارٹرز پینٹاگون نے جنرل ووٹل کے دورے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

جنرل ووٹل گزشتہ برس مئی میں بھی شمالی شام کا ایک دورہ کر چکے ہیں۔ ایس ڈی ایف اِس وقت جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی خود ساختہ خلافت کے مرکز الرقہ کی بازیابی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مہم میں امریکی فوجی مشیر بھی باغیوں کی معاونت کر رہے ہیں۔

 سیریئن ڈیموکریٹک فورسز  کو امریکی حمایت حاصل ہے اور یہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے علاوہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف بھی اپنی مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ تنظیم سن 2015 میں قائم کی گئی تھی۔ اس کے قبضے میں شمالی شام کی کرد اور عرب آبادیوں پر مشتمل علاقے ہیں۔ انہی علاقوں کے رضاکار اب اب ایس ڈی ایف کی عسکری قوت کا حصہ ہیں۔

اشتہار