اس سال صرف 60 ہزار مسلمان حج کریں گے، بیرون ملک سے کوئی نہیں | حالات حاضرہ | DW | 12.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اس سال صرف 60 ہزار مسلمان حج کریں گے، بیرون ملک سے کوئی نہیں

سعودی حکومت کے فیصلے کے مطابق کورونا کی عالمی وبا کے باعث اس سال کسی مسلمان کو بیرون ملک سے آ کر حج کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ سعودی شہریوں اور اس مملکت میں مقیم غیر ملکیوں میں سے صرف ساٹھ ہزار کو حج کی اجازت دی جائے گی۔

سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی نے ہفتہ بارہ جون کو ریاض میں ملکی وزرات حج کے ایک اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس سال صرف 60 ہزار مسلمانوں کو حج کی اجازت دی جائے گی اور وہ بھی سعودی عرب کے اپنے شہریوں اور اس بادشاہت میں رہائش پذیر غیر ملکیوں میں سے ہوں گے۔

’حج اور قربانی مشرکوں کی رسومات کا حصہ بھی تھے‘: محقق کو سزا

خاص طور پر حج کے لیے اس سال بھی کسی مسلمان کو سعودی عرب آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ مسلسل دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ سعودی حکومت نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے مزید پھیلاؤ کے روکنے کے لیے ایسا فیصلہ کیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ حج ہر سال دنیا بھر میں انسانوں کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے اور اس اسلامی مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے پوری دنیا سے عازمین سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔

رواں برس حج کے لیے کورونا ویکسین لگوانا لازمی

Saudi-Arabien - Beginn des Hadsch

اس سال مسلسل دوسرا موقع ہو گا کہ حج مکہ میں کئی ملین مسلمانوں کا اجتماع نہیں ہو گا

ویکسینیشن اور عمر کی شرائط

سعودی وزارت حج کے مطابق اس سال جو 60 ہزار مسلمان حج کر سکیں گے، وہ مقامی سعودی باشندے اور سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی مسلمان تو ہوں گے ہی، لیکن ساتھ ہی ان کے لیے یہ شرط بھی ہو گی کہ ان کی عمریں 18 اور 65 برس کے درمیان ہوں اور ان کی کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن ہو چکی ہو۔

گزشتہ برس حجاج کی تعداد صرف ایک ہزار تھی

پچھلے سال جب کورونا وائرس کی وبا کے دور میں حج کے عالمی اجتماع کا وقت پہلی بار آیا تھا، صرف ایک ہزار مسلمانوں کو اس اسلامی فریضے کی ادائیگی کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ حجاج بھی سعودی عرب کے اندر سے ہی تارکین وطن میں سے منتخب کیے گئے تھے۔

عمرے کی دوبارہ اجازت، سات ماہ بعد خانہ کعبہ کی رونق واپس

ان ایک ہزار حاجیوں میں سے دو تہائی ایسے غیر ملکی تھے، جن کا انتخاب حکام نے اس وجہ سے کیا تھا کہ ان کا تعلق دنیا کے ان 160 مختلف ممالک سے تھا، جنہیں حج کے اجتماع میں عموماﹰ ہر سال نمائندگی حاصل ہوتی ہے۔ باقی ماندہ ایک تہائی افراد سعودی سیکورٹی اہلکار اور طبی عملے کے ارکان تھے۔

م م / ش ح (اے ایف پی، روئٹرز)