اسکاٹ لینڈ: حیض کے لیے استعمال ہونے والی اشیا کی مفت فراہمی | صحت | DW | 26.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

اسکاٹ لینڈ: حیض کے لیے استعمال ہونے والی اشیا کی مفت فراہمی

اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے اس مسودہٴ قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے نفاذ کے بعد خواتین کو حیض کے دوران استعمال ہونے والی اشیا کی فراہمی مفت ہو گی۔

اسکاٹ لینڈ خواتین کو حیض کے دوران استعمال میں لائی جانے والی اشیا مفت فراہم کرنے والا پہلا خطہ بن گیا ہے۔ خواتین کے لیے مقررہ مقامات پر ٹیمپُون اور سینیٹری پیڈز یا ٹاول رکھے جائیں گے۔ ایام حیض کی حامل خواتین یہ سامان بغیر کسی دوکان یا مارکیٹ میں گئے حاصل کر لیا کر لیں گے۔

اس مسودہٴ قانون کا نام 'پیریڈ پراڈکٹس اسکاٹ لینڈ بل‘ رکھا گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں یہ بل اتفاق رائے سے منظور کیا گیا اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔ اس بل کے تحت ماہواری کے دوران استعمال ہونے والی اشیا کمیونٹی سینٹرز، یوتھ کلبس اور دواخانوں پر بھی رکھی جائیں گی۔

اسکاٹ لینڈ کے خزانے پر ان مصنوعات کی مفت فراہمی کی وجہ سے 31 ملین امریکی ڈالر سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔ اسکاٹش سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس حکومتی فیصلے کو ایک اہم فلاحی قدم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو اب کسی ذہنی یا معاشی کوفت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

Tampons auf blauem Hintergrund (Colourbox/Birgit Reitz-Hofmann)

اسکاٹ لینڈ خواتین کو حیض کے دوران استعمال میں لائی جانے والی اشیا مفت فراہمی

اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ میں یہ مسودہٴ قانون ایک خاتون رکن مونیکا لینون نے پیش کیا۔ انہوں نے بل پیش کرتے ہوئے اسے اسکاٹش سماجی تاریخ کا ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ میں بحث نے یہ ثابت کیا کہ صنفی مساوات کے حصول میں پارلیمنٹ نے عملی کوششوں میں شریک رہا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ اسکاٹ لینڈ سن 2018ء میں وہ پہلا ملک بنا تھا جس نے اسکولوں اور دوسرے تعلیمی اداروں بشمول یونیورسٹیوں میں سینیٹری مصنوعات مفت فراہم کرنے والا ملک بنا تھا۔ اسی تناظر میں ایک رکن پارلیمنٹ ایلیسن جوہانسن نے کہا تھا کہ ٹائلٹ پیپر مفت دیے جاتے ہیں تو حیض کی مصنوعات کی دو سال بعد فراہمی مناسب دکھائی نہیں دیتی۔

ع ح ⁄ ا ب ا (روئٹرز)

DW.COM