1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسپین میں ٹرین حادثہ، درجنوں ہلاک

امتیاز احمد25 جولائی 2013

اسپین کے شمال مغرب میں پیش آنے والے ایک ٹرین حادثے میں کم از کم 77 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ٹرین کی زیادہ تر بوگیاں پٹری سے اتر گئی ہیں۔ اس حادثے میں ستّر سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

https://p.dw.com/p/19Dt8
تصویر: picture-alliance/dpa

حکام کے مطابق یہ حادثہ ہائی اسپیڈ ٹرین اسٹیشن سانتیاگو ڈی کومپسٹیلا کے قریب بدھ کی شام پیش آیا۔ رات گئے علاقائی حکومت کے سربراہ البیرٹو نونیس فائجو کا مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گالیسیا میں پیش آنے والے اس حادثے میں پچاس سے پچپن کے درمیان افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق ستّر سے زائد مسافر زخمی ہیں اور ان میں سے بیس کی حالت تشویش ناک ہے۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

جائے حادثہ پر موجود ایک فوٹو گرافر کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ درجنوں لاشوں کو ٹرین کی تباہ شدہ بوگیوں سے نکالا گیا ہے۔

اسپین کے محمکہ ء ریلوے کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق حادثے کے وقت ٹرین پر تقریباﹰ 218 افراد سوار تھے۔ بیان کے مطابق ابھی تک یہ نہیں پتہ چلا ہے کہ ٹرین پر عملے کے کتنے افراد موجود تھے۔ محمکہ ء ریلوے کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں فی الحال کوئی اعداد و شمار نہیں دیے گئے ہیں۔

Zugunglück in Spanien
حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہےتصویر: picture-alliance/dpa

مقامی ٹیلی وژن پر دکھائے جانے والے مناظر سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی بھی مسافر مختلف بوگیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حادثے کی شکار ہونے والی ٹرین دارالحکومت میڈرڈ سے ایلفیرول جا رہی تھی۔ مقامی وقت کے مطابق یہ حادثہ شام آٹھ بجکر بیالیس منٹ پر پیش آیا۔ پبلک ٹیلی وژن ’ٹی وی ای‘ پر مقامی لوگوں سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

ملکی وزیراعظم Mariano Rajoy نے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں سینتیاگو میں خوفناک ریل گاڑی کے حادثے کے متاثرین کے ساتھ اپنی محبت اور یکجہتی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

ملکی وزیراعظم ماریانو راخوئے آج جمعرات کو جائے وقوعہ کا دورہ کریں گے اور ممکنہ طور پر وہ زندہ بچ جانے والے زخمیوں کی عیادت بھی کریں گے۔ فوری طور پر ٹرین حادثے کی وجوہات معلوم نہیں کی جا سکی ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔