اسپین میں مہاجرین کے حق میں بڑا مظاہرہ | مہاجرین کا بحران | DW | 18.06.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اسپین میں مہاجرین کے حق میں بڑا مظاہرہ

اسپین میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے دارالحکومت میڈرڈ میں مارچ کیا۔ ان افراد کا ہسپانوی حکومت سے مطالبہ تھا کہ وہ سترہ ہزار مہاجرین کو قبول کرنے کے اپنے وعدہ پر عمل درآمد کرے۔

اسپین میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے دارالحکومت میڈرڈ میں مارچ کیا۔ ان افراد کا ہسپانوی حکومت سے مطالبہ تھا کہ وہ سترہ ہزار مہاجرین کو قبول کرنے کے اپنے وعدہ پر عمل درآمد کرے۔

یورپی یونین کے مہاجرین کو مختلف رکن ریاستوں میں آباد کرنے سے کے منصوبے کے تحت ہسپانوی حکومت کو 17 ہزار مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینا تھی، تاہم اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

میڈرڈ کے مرکزی حصے میں مارچ کرنے والے یہ افراد نعرے لگا رہے تھے، ’’کوئی انسانی غیرقانونی نہیں ہوتا‘‘، ’’دیواریں نہیں پُل‘‘ اور ’’مزید معذرتیں نہیں، مزید رکاوٹیں نہیں‘‘۔

یہ بڑا مظاہرہ انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے زیرانتظام منعقد کیا گیا تھا، جس میں ایمسنٹی انٹرنیشنل کا ادارہ بھی شامل تھا۔ منگل کے روز ’عالمی یوم مہاجرین‘ منائے جانے سے قبل اس مظاہرے کے انعقاد کا مقصد مہاجرین کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے لیے ہم دردی کے جذبات پیدا کرنا تھا۔

یہ بات اہم ہے کہ سن 2015ء میں یورپی یونین نے یکجہتی منصوبے کے تحت طے کیا تھا کہ یونان اور اٹلی میں پھنسے مہاجرین میں سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار تارکین وطن کو مختلف یورپی ریاست میں بسایا جائے گا، تاکہ یونان اور اٹلی کا بوجھ کم کیا جا سکے، تاہم اس منصوبے کی ڈیڈلائن قریب ہے اور اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو پایا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز تک اس منصوبے کے تحت صرف بیس ہزار مہاجرین کو یورپی یونین کی مختلف ریاستوں میں بسایا جا سکا ہے۔

Spanien | Zehntausende demonstrieren für die Aufnahme von mehr Flüchtlingen (picture-alliance, NurPhoto/V. Rovira)

ہزاروں ہسپانوی شہریوں نے مہاجرین کے حق میں مظاہرہ کیا

اس منصوبے کے تحت اسپین کو سترہ ہزار تین سو مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینا تھی، تاہم اب تک ہسپانوی حکومت نے صرف تیرہ سو تارکین وطن کو قبول کیا ہے۔

اس مظاہرے میں شامل ایک 55 سالہ استاد کارلوس ڈیز کے مطابق، ’’اسپین اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر رہا ہے۔‘‘

مارچ میں شامل کیمرون سے غیرقانونی طور پر اسپین پہنچنے والے مہاجر کرسٹیان لےلے کے مطابق اس نے مراکش اور اسپین کی سرحد پر ایک اونچی خار دار دیوار عبور کی اور اس طرح وہ اسپین پہنچا۔ اس ستائیس سالہ مہاجر کے مطابق، ’’میں چاہتا تھا میں یہاں پڑھوں، اپنی زندگی تبدیل کروں اور اپنے خاندان کا سہارا بنوں۔ آپ کیمرون میں انتہائی کم اجرت کی وجہ سے بہتر زندگی نہیں گزار سکتے۔‘‘

لے لے مختلف شہروں میں قائم مہاجر کیمپوں میں وقت گزارنے کے بعد میڈرڈ پہنچا ہے اور اب یہاں ایک مالی کے طور پر کام کر رہا ہے۔

لے لے کا کہنا ہے کہ وہ اس مارچ میں اس لیے شرکت کر رہا ہے، تاکہ دیگر مہاجروں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کر سکے۔

ملتے جلتے مندرجات