’اسلامک اسٹیٹ‘ کی جنسی غلامی سے بھاگ نکلنے والی لڑکی ’شیریں‘ | فن و ثقافت | DW | 28.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’اسلامک اسٹیٹ‘ کی جنسی غلامی سے بھاگ نکلنے والی لڑکی ’شیریں‘

’شیریں‘ ایک یزیدی کُرد نوجوان ہے، جسے شمالی عراق میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے عسکریت پسندوں نے اغوا کیا، اُسے اذیت پہنچائی اور اُسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

default

شیرں کی آپ بیتی پر مشتمل کتاب

شیریں آئی ایس کے چُنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی اور اب اُس کی مکمل کہانی دنیا کے سامنے کتاب کی شکل میں آ چُکی ہے۔ س اہم کام کا سہرا ایک معروف صحافی اور متعدد کتابوں کی مصنفہ آلکسزانڈرا کاویلیؤس کے سر ہے۔ اس مصنفہ نے شیریں کی کہانی قلم بند کی اور اسے جرمن زبان میں شائع کیا۔ اس کتاب کا عنوان ہے،Ich bleibe" eine Tochter des Lichts"

اس کتاب میں مصنفہ نے شیریں کے اغوا سے لے کر اُس کے ساتھ ہونے والی نفسیاتی، جسمانی، جنسی یعنی ہر طرح کی زیادتیوں کے ساتھ ساتھ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی طرف سے شیریں کی برادری یعنی یزیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے ظلم و ستم کے ہولناک پہلوؤں پر سے پردہ اُٹھایا ہے۔ شیریں نے جرمن میڈیا کو متعدد انٹرویو دیتے ہوئے جو کُچھ کہا وہ مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات میں موجود ہے۔

سوال: جرمنی پہنچ کر آپ کو کیسا محسوس ہو رہا ہے؟

جواب: میں جرمنی پہنچ تو گئی ہوں مگر میں یہاں بھی یزیدیوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہوں۔ میں اکثر دن کو بھی خواب کی کیفیت میں رہتی ہوں اور اپنی ماں کو دیکھتی ہوں۔

سوال: کیا جرمنی آپ کا نیا وطن بن سکتا ہے؟

جواب: میں ہرگز یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ مجھے جرمنی پسند نہیں ہے تاہم میں خود کو یہاں بہت تنہا محسوس کرتی ہوں۔ میں ناشکری نہیں کر رہی۔ تنہا یہ حقیقت ہی جرمنی اور جرمن عوام کی فراخ دلی اور حُسن سلوک کا ثبوت ہے کہ دنیا میں کوئی ایک ملک ایسا ہے جو ہماری برادری کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ ہمیں جینے کا حق دے رہا ہے۔ اس ملک میں انسانوں کے حقوق اور اُن کی قدر و قیمت پائی جاتی ہے لیکن جب تک میری فیملی میرے ارد گرد نہیں ہوگی مجھے کُچھ اچھا نہیں لگے گا۔ میرا وطن وہاں ہے جہاں میری ماں ہے۔ مجھے وطن کی یاد بہت ستاتی ہے۔

سوال: اپنی کتاب کے ذریعے آپ کیا حاصل کرنا چاہتی ہیں؟

جواب: میں چاہتی ہوں کہ دنیا کو پتا چلے کے یزیدی برادری پر کتنے ظلم و ستم ڈھائے گئے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ اس طرح کا قتل عام پھر کبھی نہ ہو۔ یہ کتاب میری پوری قوم کے نام ہے۔ میں دنیا کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ماضی کی طرح اب بھی لاتعدا یزیدی لڑکیاں، بچے، خواتین اور مائیں قید میں ہیں اور پناہ گزین کیمپس موجود ہیں اور وہاں 2014 ء سے لاتعداد انسان کسمپرسی کے عالم میں رہ رہے ہیں۔ عالمی برادری کو اُن کی مدد کرنی چاہیے۔

27.11.2015 DW Doku Jesidin

عراق اور شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے یزیدی لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں

سوال: جب آپ پیرس کے دہشت گردانہ حملوں یا جرمنی میں دہشت گردی کے بارے میں انتباہی پیغام سُنتی ہیں توآپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟

جواب: آپ سب دیکھ چُکے ہیں کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے عراق اور شام میں کیا تباہی لائی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر قوت اکٹھا کر کے آئی ایس کے خلاف جو کچھ کرسکتی ہے کرے اور اُسے تباہ کر دے لیکن عالمی برادری آئی ایس کے خلاف اقدامات کرنے کی بجائے خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے۔ میں کہہ دیتی ہوں اگر آپ سب نے اس وقت آئی ایس کو پسپا نہیں کیا تو آپ کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو ہمارے یہاں ہوا ہے۔

شیریں اُس لڑکی کا فرضی نام ہے، جو 17 سال کی عمر میں عراق کے ایک شمالی گاؤں ہردان سے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ہاتھوں اغوا ہوئی تھی۔ اُسے ہر طرح کی زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا اور جنسی غلام بنا کر رکھا گیا۔ اب یہ نوجوان عراقی یزیدی لڑکی 19 سال کی ہو چُکی ہے اور جرمنی میں زندگی بسر کر رہی ہے۔

شیریں کی مادری زبان کُرمانجی ہے اور اس کا انٹرویو مترجموں کی مدد سے کیا گیا ہے۔

DW.COM

اشتہار