اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر ’آہنی دیوار‘ مکمل کر لی | حالات حاضرہ | DW | 08.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر ’آہنی دیوار‘ مکمل کر لی

اسرائیل کا کہنا ہے کہ سرحد پر تعمیر کردہ اعلیٰ تکنیکی سینسرز سے لیس دیوار زیر زمین تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ’آہنی دیوار‘ حماس کے جنگجوؤں کو اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے کے لیے سرنگوں کا استعمال کرنے سے بھی روکے گی۔

اسرائیل نے سات دسمبر منگل کے روز اپنی سرحد کے ساتھ محصور غزہ کی پٹی کے آس پاس ایک بہتر حفاظتی رکاوٹ کو مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ یہ نئی آہنی دیوار جدید سینسرز سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ زیر زمین پھیلی ہوئی ہے تاکہ عسکریت پسندوں کو سرنگوں کے استعمال سے بھی باز رکھا جا سکے۔

اس دیوار کے ساتھ زمین کے اوپر موجود باڑ، بحری رکاوٹ، ریڈار سسٹم، اور کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کے نظام کو مزید بہتر کیا گيا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز کا کہنا ہے کہ یہ نئی آہنی دیوار، ’’اسرائیلی شہریوں میں تحفظ کا احساس پیدا کرے گی۔‘‘

اس کی تعمیر میں تقریباً سوا دو لاکھ ٹرک کنکریٹ اور تقریبا ڈیڑھ لاکھ  ٹن لوہا اور اسٹیل استعمال کیا گیا ہے۔ بینی گانٹز کا کہنا ہے کہ یہ ’’آہنی دیوار‘‘  65 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے جو، ’’شدت پسند تنظیم اور جنوبی اسرائیل میں رہنے والوں کے درمیان رکاوٹ کا کام کرے گی۔‘‘

اسرائیل حماس کو روکنا چاہتا ہے

اسرائیلی وزارت دفاع نے تاہم یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ آخر یہ آہنی دیوار زیر زمین کتنی گہری ہے۔ فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے حملوں کو روکنے کے لیے پہلی بار سن 2016 میں اس رکاوٹ اور دیوار کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اسرائیل، یورپی یونین اور امریکا جیسے مغربی ممالک حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں، جو غزہ کے علاقے میں نہ صرف مقبول ہے بلکہ انتخابات میں بھی کامیاب ہوتی ہے۔

حماس نے سن 2007 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد غزہ کا اقتدار حاصل کیا تھا تب سے اس گروپ کے ساتھ اسرائیل نے چار جنگیں لڑی ہیں۔ اس میں سے حالیہ جنگ اسی برس مئی میں ہوئی تھی۔

لڑائی کے دوران حماس نے سرنگ کے ذریعے جنگجوؤں کو اسرائیل میں داخل کرانے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں ناکام رہی تھی۔

حماس کو سن 2014 میں لڑائی کے دوران زیادہ کامیابی ملی تھی جب اس کے جنگجو کئی بار اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

غزہ کا محاصرہ

اسرائیل اور مصر اس علاقے کے اندر آنے اور وہاں سے باہر جانے  والے سامان اور لوگوں کو سختی سے کنٹرول کرتی ہے اور ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ عالمی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ میں بسنے والے تقریباً 20 لاکھ لوگ اس ناکہ بندی کی وجہ سے انتہائی خراب حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس ناکہ بندی کو ختم کرانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے حماس نے سن 2018 اور  سن 2019 میں سرحد کے آس پاس بڑے پیمانے پر مظاہروں کا بھی اہتمام کیا تھا۔ ان پر تشدد مظاہروں کے دوران 200 سے زائد فلسطینی جبکہ ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوا تھا اور ہزاروں فلسطینی بھی زخمی ہو گئے تھے۔

ص ز/  ع آ (اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز)

DW.COM