1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسرائیلی وزیر سیاحت سعودی عرب میں، سعودی وفد ویسٹ بینک میں

26 ستمبر 2023

اسرائیلی وزیر سیاحت ہائم کاٹز منگل چھبیس ستمبر کے روز اپنے ایک اعلانیہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے، جو اپنی نوعیت کا اولین دورہ ہے۔ اسی دوران تیس سال بعد پہلی مرتبہ ایک سعودی وفد بھی مقبوضہ ویسٹ بینک پہنچ گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/4Wpad
سعودی عرب، دائیں، اور اسرائیل، بائیں، کے قومی جھنڈے
سعودی عرب، دائیں، اور اسرائیل کے قومی پرچم

یروشلم سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی وزیر سیاحت کا سعودی عرب کا یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے قیام کے لیے جاری مذاکرات کے تناظر میں اپنی نوعیت کا اولین اور اب تک کا اعلیٰ ترین سطح کا دورہ ہے۔

اسرائیل کی وزارت سیاحت کے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ''ہائم کاٹز ایک سرکاری وفد کے ساتھ سعودی عرب گئے ہیں اور وہ پہلے اسرائیلی وزیر ہیں، جنہوں نے ایسا کیا ہے۔‘‘

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، پاکستانی وزیرخارجہ

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ سیاحت کا لوگو
ہائم کاٹز عالمی ادارہ سیاحت کی ایک کانفرنس کے لیے ریاض گئے ہیںتصویر: Jamnews

اس بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہائم کاٹز ریاض میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم عالمی ادارہ سیاحت کی ایک کانفرنس میں حصہ لینے کے لیے خلیج کی اس عرب بادشاہت گئے ہیں۔ وہ ریاض میں دو دن قیام کریں گے۔

تیس سال بعد سعودی وفد اسرائیل کے زیر قبضہ ویسٹ بینک میں

اسی دوران سعودی عرب نے گزشتہ تیس برسوں میں پہلی بار اپنا ایک وفد اسرائیل کے زیر قبضہ ویسٹ بینک کے فلسطینی علاقے کے دورے پر بھیجا ہے۔ فلسطینی خود مختار علاقوں میں جیریکو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب کا ایک وفد آج منگل چھبیس ستمبر کے روز مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے دورے پر وہاں پہنچا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان
سعودی ولی عہد محمد بن سلمانتصویر: Saudi Press Agency/dpa/picture alliance

گزشتہ تین عشروں میں یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب کا کوئی وفد ویسٹ بینک کے دورے پر گیا ہے۔ اس وفد کی قیادت فلسطینی علاقوں کے لیے سعودی عرب کے 'غیر مقیم‘ سفیر نائف السدیری کر رہے ہیں۔

سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کر لے گا اگر ۔۔۔۔ محمد بن سلمان

نائف السدیری فلسطین کے لیے سعودی عرب کے 'غیر مقیم‘ سفیر اس لیے ہیں کہ فلسطینی علاقے ان کی سفارتی ذمے داریوں میں تو آتے ہیں لیکن وہ خود وہاں مقیم نہیں ہیں۔ نائف السدیری بنیادی طور پر اردن میں سعودی عرب کے سفیر ہیں اور ریاض حکومت نے گزشتہ ماہ ہی انہیں فلسطینی علاقوں میں 'غیر مقیم‘ سفیر اور یروشلم کے لیے قونصل جنرل نامزد کیا تھا۔

سعودی وفد اردن سے ویسٹ بینک پہنچا

اس وفد کی آمد کے بعد جیریکو کی قائم مقام گورنر یسریٰ سویتی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی وفد اردن سے زمینی سرحد پار کر کے مغربی کنارے کے اسرائیل کے زیر قبضہ اس فلسطینی علاقے میں پہنچا۔ 1993ء میں اوسلو میں طے پانے والے تاریخی معاہدوں پر دستخطوں کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب کا کوئی سرکاری وفد مغربی کنارے کے دورے پر گیا ہے۔ جیریکو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ویسٹ بینک پہنچنے پر السدیری اور ان کے وفد کا استقبال اعلیٰ فلسطینی سفارت کار ریاض المالکی نے کیا۔

فلسطینی اتھارٹی کے لیے پہلی مرتبہ سعودی سفیر تعینات

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اسی ماہ خطاب کرتے ہوئے
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اسی ماہ خطاب کرتے ہوئےتصویر: Mike Segar/REUTERS

فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات

رام اللہ میں فلسطینی وزارت خارجہ نے بتایا کہ نائف السدیری کو اس دورے کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملنا تھا۔

سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین جلد سمجھوتے کا امکان، بائیڈن

السدیری کی قیادت میں سعودی وفد ایک ایسے وقت پر رام اللہ پہنچا، جب امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور سعودی عرب دونوں کے مابین اس حوالے سے بات چیت جاری ہے کہ کسی طرح ان دونوں حریف علاقائی طاقتوں کے مابین معمول کے تعلقات قائم ہو سکیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ مشرق وسطیٰ کی سیاست کو واضح طور پر بدل کر رکھ دینے والی پیش رفت ہو گی۔

تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق سعودی وفد کے سربراہ نائف السدیری نے رام اللہ میں صحافیوں کو بتایا کہ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی قیام سے متعلق کسی بھی بات چیت کا انحصار اسرائیل کی اس حوالے سے پیشکش پر ہو گا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ 'زمین کے بدلے امن‘ قائم کرنے پر تیار ہے۔

م م / ا ا (اے ایف پی، روئٹرز)