اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 04.07.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان ہلاک

مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں ایک بیس سالہ فلسطینی نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔ ادھر غزہ پٹی میں اسرائیل کے فضائی حملوں سے تناؤ ایک مرتبہ پھر بڑھ گیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق ایک بیس سالہ فلسطینی نوجوان کو ہفتے کے روز مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز نے ہلاک کر دیا۔ فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے نوجوان کا تعلق نابلس شہر کے قریب واقع قصرہ گاؤں سے تھا۔

اسرائیلی فوج کی جوابی کارروائی

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مذکورہ فلسطینی شخص نے اُن پر چھت کے اوپر سے ایک دھماکا خیز آلہ پھنکا تھا، جس کے جواب میں فوجیوں نے اس پر گولی چلا دی۔ فلسطینی نیوز ایجنسی وفا کے مطابق اس نوجوان کو سینے میں گولی ماری گئی۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے خلاف فلسطینیوں کی جانب سے اکثر احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں۔ ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔

قبل ازیں دو جولائی بروز جمعہ کو یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں، جب اسرائیلی کابینہ نے وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی سربراہی میں یہودی آبادکاروں کو نابلس کے قریب واقع ایویٹر نامی بستی چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ اس بستی کی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو اسرائیلی فوجی اڈے میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

اسرائیل کے غزہ میں نئے فضائی حملے

علاوہ ازیں غزہ پٹی میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے، جہاں اسرائیل نے گزشتہ روز ساحلی فلسطینی علاقے پر نئے فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی جیٹ طیاروں نے مبینہ طور پر ایک ہتھیار تیار کرنے والے مقام اور ایک راکٹ لانچر کو نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان:  معید یوسف اور زلفی بخاری کے دورہ اسرائیل کی تردید

اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ یہ تازہ حملے غزہ کی طرف سے بھیجے گئے آتشی غباروں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ ان غباروں کی وجہ سے اسرائیل کی حدود میں کئی مرتبہ بڑے پیمانے پر آگ بھڑک چکی ہے۔

غزہ میں رواں برس مئی کے دوران  اسرائیلی فوج اور حماس نے گیارہ روز پر محیط جنگلڑی تھی، جس میں 250 سے زائد فلسطینی اور 13 اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتیں ہو گئی تھیں۔ اکیس مئی کو مصر کی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

ع آ / ا ا (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 02:33

کبھی نہ الگ ہونے والے ہمسائے: مغربی کنارے پر زندگی

DW.COM