اسرائیلی صحرا اب سیاحتی مراکز | معاشرہ | DW | 06.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

اسرائیلی صحرا اب سیاحتی مراکز

 صحرائی سرزمین کو گلزار بنانے کے بعد اب اسرائیل سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔

صحرائے النقب کے غیر ترقی یافتہ وسیع خطے میں سیاحوں کے لیے لگژری کیمپنگ، بددووں کی مہمان نوازی اور  ریتیلے ٹیلوں پر سرفنگ جیسی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متوجہ کیا جائے۔  اس کے علاوہ ایک نیا بین الااقوامی ایئرپورٹ بھی اس صحرا میں تعمیر کیا جا رہا ہے جو اسرائیل کی ایک اور سیاحتی تفریح گاہ، ایلات سے محض 18 کلو میٹر دوری پر ہو گا۔       

 اسرائیلی وزارت سیاحت کے مطابق وہ ملک میں صحرائے النقب سے سیاحتی زر مبادلہ کی مد میں حاصل ہونے والے پانچ فیصد حصے کو بڑھا کر بیس فیصد تک لے جانے کے خواہشمند ہیں۔ اسی سلسلے میں النقب کے ہوٹلوں میں کمروں کی تعداد دو ہزار سے بڑھا کر پانچ ہزار تک کرنے کا منصوبہ بھی ہے جو اگلے چھ سے سات برسوں میں مکمل ہو گا۔

BdT Israel Beduinenfestival in der Negew Wüste (AP)

’حلال سیاحت‘ کا رجحان، مالیاتی حجم 300 ارب ڈالر ہو جائے گا

یورپ کے سامنے اسرائیل اپنے صحرا کو ایک منفرد سیاحتی مقام کے بطور پیش کر رہا ہے۔  اسی سلسلے میں اسرائیلی وزارت سیاحت سے وابستہ اری شیرون کہتی ہیں کہ جب یورپ میں دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینوں میں موسم سرما اپنے عروج پر ہوتا ہے، اس صحرا میں درجہ حرارت نہایت متناسب ملتا ہے۔  

اسرائیل کی معیشت میں سیاحت کا ایک انتہائی اہم کردار ادا کرتی  ہے۔ صرف 2017ء میں سیاحت کے باعث 5.8 بلین ڈالر وصول ہوئے۔ اسرائیلی وزارت سیاحت کے مطابق آٹھ ملین آبادی رکھنے والے اس ملک میں صرف گزشتہ سال ہی 3.6 ملین افراد سیاحت کی غرض سے اس ملک میں آئے، جو ایک ریکارڈ ہے۔ یہاں آنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد امریکا، روس، فرانس، جرمنی اور برطانوی شہریوں کی ہے۔

ع ف / ع ا (اے ایف پی)

DW.COM