1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسرائیلی جیل سے مفرور چار فلسطینی قیدی گرفتار، دو باقی

11 ستمبر 2021

ايک ہائی سکیورٹی اسرائیلی جیل سے سرنگ بنا کر فرار ہونے والے چھ فلسطینی قیدیوں میں سے چار کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/40BaO
Palästinensische Häftlinge flüchten aus Gefängnis in Israel
تصویر: Gil Eliyahu/JINI/Xinhua/picture alliance

ايک ہائی سکیورٹی اسرائیلی جیل میں سرنگ بنا کر پیر چھ ستمبر کو فرار ہو جانے والے چھ فلسطینی قیدیوں میں سے اب تک چار کو دوبارہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دو مفرور قیدیوں کا تاہم ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق دو مفرور قیدیوں کو ہفتے کے روز علی الصبح گرفتار کیا گیا۔ جبکہ دو دیگر مفرور قیدیوں کو کل جمعے کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔ دو قیدیوں کا البتہ ابھی کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔

جن دو مفرور قیدیوں کو آج ہفتے کے روز گرفتار کیا گیا، ان میں اہم عسکریت پسند رہنما ذکریا زبیدی شامل ہیں۔ سن 2000 کی دہائی کے اوائل میں فلسطينيوں کی مزاحمت ميں وہ ایک نمایاں رہنما کے طور پر سامنے آئے تھے۔ گرفتاری کے وقت کی تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زبیدی ایک ديگر نامعلوم شخص کے ساتھ زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہیں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہیں۔ اسرائیلی مسلح فورسز کے جوان سویلین یونیفارم میں ان کے اطراف ميں موجود ہیں۔

اسرائیلی حکومت یا پولیس نے فی الحال ان دونوں کی گرفتاری کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔ دونوں کی گرفتاری اسرائیلی پولیس کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد عمل میں آئی جب اس نے بتایا تھا کہ چھ ستمبر کو گلبوآ ہائی سکیورٹی جیل سے فرار ہو جانے والے چھ فلسطینی قیدیوں میں سے دو کو پکڑ لیا گیا ہے۔

فلسطینی قیدیوں کی دوبارہ گرفتاری کے فوراً بعد غزہ پٹی سے اسرائیل کی طرف راکٹ داغے گئے تاہم اسرائیلی فوج نے انہیں ناکارہ بنا دیا۔ کسی فلسطینی گروپ نے اس راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم سمجھا جاتا ہے کہ یہ فلسطینوں کی دوبارہ گرفتاری کے خلاف رد عمل کے طور پر داغے گئے تھے۔

Gefängnisausbruch in Israel
تصویر: Sebastian Scheiner/AP/picture alliance

پہلے دو مفرور قیدی گرفتار

اسرائیلی پولیس نے جمعے کی رات کو کہا تھا کہ دو مفرور فلسطینی قیدیوں کو شمالی اسرائیل کے ناصرہ شہر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ان دونوں کی شناخت محمد ارادہ اور یعقوب قادری کے طور پر کی تھی۔ ان دونوں کا تعلق عسکریت پسند تنظیم اسلامی جہاد سے ہے اور دونوں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک شہری نے ان دونوں کے بارے میں شک کی بنیاد پر پولیس کو خبر دی تھی۔ دونوں نے گرفتاری کے دوران کسی طرح کی مزاحمت نہیں کی۔

چھ فلسطینی قیدی سرنگ بنا کر ہائی سکیورٹی اسرائیلی جیل سے فرار

سوشل میڈیا پر موجود ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسرائیلی پولیس ایک شخص کے پاؤں میں بیڑیاں پہنا کر اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال رہی ہے اور اس سے اس کا نام پوچھ رہی ہے۔ جینز اور سبز ٹی شرٹ میں ملبوس مذکورہ شخص اپنی شناخت قادری کے طور پر کرتا ہے اور جب پولیس اس سے پوچھتی ہے کہ کیا وہ مفرور قیدیوں میں سے ایک ہے تو وہ جواب میں کہتا ہے، 'ہاں‘۔ قادری کو قتل کرنے کی کوشش اور بم نصب کرنے کے جرم میں دوہری عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔

Kundgebung für sechs palästinensische Gefangene, die aus dem israelischen Gilboa-Gefängnis geflohen sind
تصویر: Ismael Mohamad/UPI Photo via Newscom/picture alliance

فلسطینیوں کے لیے 'ہیرو‘

چھ ستمبر کو گلبوآ کی انتہائی سکیورٹی جیل سے سرنگ کے ذریعے چھ فلسطینی قیدیوں کے فرار ہوجانے کے بعد پورے اسرائیل اور مغربی کنارے میں ان کی تلاشی شروع کر دی گئی تھی۔

فلسطینیوں کے لیے یہ مفرور 'ہیرو‘ کی طرح تھے جو خود کو اسرائیلی قید سے آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ جیل سے فرار ہونے کی خبروں کے بعد فلسطینیوں نے غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں جشن بھی منایا تھا۔

فلسطینی سکیورٹی فورسز کی حراست میں سرگرم کارکن کی موت

مفرور قیدیوں میں سے چار عسکریت پسند گروپ اسلامی جہاد کے اراکین ہیں جو زبیدی کی طرح ہی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان تمام کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے جنین شہر سے ہے۔

Israel | Palästinensische Häftlinge flüchten aus dem Gilboa-Gefängnis
تصویر: Sebastian Scheiner/AP/picture alliance

اسرائیلی سکیورٹی پر سوالات

مفرور فلسطینی قیدیوں میں سے دو کی جمعے کے روز دوبارہ گرفتاری کی خبر عام ہوتے ہی فلسطین ميں سوشل میڈیا پر انتہائی مایوسی کا اظہار کیا گیا۔

فلسطینی اتھارٹی نے فوری طور پر اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم حماس کے ایک ترجمان عبداللطیف القانو نے کہا کہ دوبارہ گرفتاری کے باوجود قیدیوں نے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی اور 'اسرائیلی سکیورٹی سسٹم کے وقار کو بری طرح نقصان پہنچایا۔‘

تیرہ برسوں میں غزہ کی چار جنگیں، اثرات کیا اور نقصانات کتنے؟

انتہائی سکیورٹی والی جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے نے اسرائیلی جیلوں میں موجود خامیوں کو بھی اجاگر کیا اور اس پر اسرائیلوں کی جانب سے سخت نکتہ چینی کی گئی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ملک کی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات والی ایک جیل سے فلسطینی قیدیوں کے فرار کو 'بہت سنجیدہ نوعیت کا واقعہ‘ قرار دیا تھا۔

ج ا / ع س (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)