1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Julian Assange
تصویر: Peter Nicholls/REUTERS
سیاستشمالی امریکہ

اسانج کو امریکا کے حوالے نہ کیا جائے، برطانوی عدالت

4 جنوری 2021

برطانوی عدالت نے کہا ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کو امریکا کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ امریکا نے خفیہ دستاویز افشا کرنے پر اسانج کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%AC-%DA%A9%D9%88-%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-%D9%86%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A8%D8%B1%D8%B7%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C-%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%AA/a-56125528

برطانوی خاتون جج وینیسا برائسٹر نے جولیان اسانج کو امریکی تحویل میں دینے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسانج کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں اور امریکا میں حراست کے دوران ان کے خودکشی کرنے کا امکان موجود ہے۔

جو بائیڈن اسانج کو صدارتی معافی دے دیں گے، والد کی امید

اسانج اس وقت ضمانتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر ایک برطانوی جیل میں ہیں۔ امریکی حکام کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے  چودہ دن کی مہلت ہے ۔ اسانج کے وکلا بدھ چھ جنوری کو ضمانت کی اپیل دائر کریں گے۔ اس دوران اسانج کے وکلا نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ مفرور نہیں ہوں گے۔

اسانج پر الزامات

انچاس سالہ آسٹریلین شہری جولیان اسانج کو سن 2010 اور سن 2011 کے دوران ہزاروں خفیہ امریکی دستاویزات کومنظر عام پر لانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان خفیہ دستاویزات کو عام کر کے اسانج نے امریکی قانون کے ساتھ ساتھ کئی افراد کی زندگیوں کو خطرات میں ڈال دیا تھا۔

London Anhänger von Assange jubeln
امریکا کے حوالے نہ کرنے کے عدالتی فیصلے کے بعد اسانج کے حامی افراد مسرت کا اظہار کرتے ہوئےتصویر: Henry Nicholls/REUTERS

اسانج کے وکلا کا کہنا ہے کہ امریکی تحویل میں دینے کے بعد الزام ثابت ہونے کی صورت میں اسانج کو امریکی عدالت  ایک سو پچھتر برس تک کی سزا سنا سکتی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکومت کا موقف ہے کہ عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا کا دورانیہ محض چار سے چھ برس تک ہو سکتا ہے۔جولیان اسانج کو امریکا کے حوالے کیا جائے یا نہیں؟

برطانوی عدالت کا فیصلہ

برطانیہ کی ڈسٹرکٹ جج وینیسا برائسٹر نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ اسانج کو امریکی تحویل میں دینے کی درخواست بظاہر اہم ہے لیکن امریکی جیلوں کے انتظامات اتنے مناسب نہیں کہ وہ اسانج کو اپنی جان لینے سے روک سکیں۔ اسانج اس وقت برطانیہ کی سخت سکیورٹی والی جیل بیلمارش میں قریب قریب قیدَ تنہائی میں ہیں۔

جج نے اس صورت حال کا بھی اپنے فیصلے میں اندراج کرتے ہوئے اس سے اتفاق کیا کہ امریکی جیلوں میں اسانج کے خودکشی کرنے کے زیادہ امکانات ہیں اور اس بنیاد پر اسانج کی امریکی حوالگی ایک جابرانہ فیصلہ ہو گا جو ان کے ذہنی صحت کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔ امریکا نے ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

Julian Assange
ایکواڈور کے لندن میں واقع سفارتخانے کی ایک کھڑکی سے اسانج باہر کی جانب جھانکتے ہوئےتصویر: Kirsty Wigglesworth/AP/picture alliance

جولیان اسانج کی شخصیت

آسٹریلوی شہری جولیان اسانج شمال مشرقی آسٹریلیا کے قصبے ٹاؤنزول میں سن 1971 میں پیدا ہوئے تھے۔ سن 2010 میں انہوں نے سچ کا 'بول بالا‘ کے لیے وکی لیکس نامی ادارہ قائم کیا۔ اس ویب سائٹ پر کوئی بھی شخص نام مخفی رکھتے ہوئے درست دستاویزات شائع کر سکتا ہے۔

’جولين اسانج شديد نفسياتی تشدد کا شکار بنے‘

ان کو شہرت سن 2007 میں ملی جب انہوں نے عراق سے متعلق ہزاروں امریکی دستاویزات عام کر دی تھیں۔ اس میں امریکی فوج کی وہ خفیہ ویڈیو بھی شامل تھی جس میں فوجی ہیلی کاپٹر اپاچی سے فائرنگ کر کے درجنوں عام لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

Julian Assange
سن 2019 میں اسانج کو پولیس کی گاڑی میں عدالتی سماعت کے بعد جیل لیجاتے ہوئےتصویر: Matt Dunham/AP/picture alliance

انہیں کئی مرتبہ انتہائی پیچیدہ صورت حال کا بھی سامنا رہا۔ اس میں ایک سویڈش خاتون کی جانب سے ان پر جنسی زیادتی کا الزام بھی شامل ہے۔ وہ امریکی تحویل میں دیے جانے سے بچنے کے لیے سات سال تک لندن میں واقع ایکواڈور کےسفارت خانے میں بھی پناہ لیے رہے۔ مجموعی طور پر اس وقت اسانج کو مختلف قسم کے ڈیڑھ درجن  الزامات کا سامنا ہے۔

ع ح،  ع ا (ڈی پی اے، اے ایف پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

طالبان کی واپسی کی خبریں: کئی حلقے تشویش کا شکار

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں