′اردو ہے جس کا نام‘ کیسے سیکھی میں نے زبان | دستک | DW | 07.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

'اردو ہے جس کا نام‘ کیسے سیکھی میں نے زبان

میری پیدائش مشرقی بھارت کے جھاڑکھنڈ صوبے کے ایک ایسے سکھ گھرانے میں ہوئی، جو تقسیم ہند کے بعد راولپنڈی سے وہاں منتقل ہوا تھا۔ روہنی سنگھ نے اردو کیوں اور کیسے سیکھی؟ اردو سے محبت کی ان کی کہانی اس بلاگ میں۔

تقریباً چھ ماہ قبل جب میں نے ڈوچے ویلے کی اردو سروس کے لیے بلاگ تحریر کرنا شروع کیا، تو میرے اکثر دوستوں، حتیٰ کہ خاندان کے افراد بھی حیران و پریشان ہو گئے۔ ان کے لیے حیرت کا مقام تھا کہ میں اردو کیسے لکھ سکتی ہوں، کیونکہ پیدائش سے حصول رزق کے مراحل تک میرا  اردو کے ساتھ دور دور تک کا واسط نہیں پڑا تھا۔

اردو میری مادری زبان تو نہیں تھی، مگر میرے آباؤ و اجداد اس سے منسلک تھے۔ میں نے بچپن میں اپنے دادا کو سکھوں کی مقدس کتاب گورو گرنتھ صاحب کو اردو میں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، ورنہ اسکا اسکرپٹ تو گرمکھی (پنجابی) ہے۔ مگر میرے داد کے بعد اردو میرے خاندان سے چلی گئی تھی۔ ان کے کسی بھی بچے کو اردو سے شغف نہیں تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ان کی گود میں بیٹھ کر میں حیرت سے دیکھتی تھی کہ دادا آخر کتاب الٹی سائڈ سے کیوں پڑھتے ہیں؟ایسی ہی ایک دوپہر میں نے ان سے اردو سیکھنے کی فرمائش کی۔ انہوں نے بس ایک سخت نظر ڈال کر مجھے اپنی پڑھائی پر دھیان دینے کے لیے کہا۔ ان کا مزاج خاصا سخت تھا، اس لیے دوسر ی بار کوئی فرمائش کرنا ممکن نہیں تھا۔ مگر اردو کے بارے میں میرا تجسس برقرار رہا۔ میرے نانا نانی کا تعلق بھی مغربی پنچاب سے ہی سے تھا۔

اردو شاید میری رگوں میں کہیں بسی تھی اور میں اس زبان کو اپنے خاندان سے اتنی جلدی جلاوطن ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔اس لیے گھر سے مایوس ہو کر رانچی میں ہی اسکول میں ہی ایک مسلمان ساتھی سے میں نے اردو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے مجھے حروف تہجی سکھائے اور مجھے یاد ہے کہ میں اردو میں اپنا نام لکھنے کی مشق کرتے ہوئے کئی صفحات برباد کرتی تھی۔ اور یہ سلسلہ یہیں ختم ہو گیا۔میری تعلیم مکمل ہوئی اور میں شادی کرکے نئی دہلی میں آباد ہو کر حصول روزگار میں محو ہو گئی۔

مگر اردو سیکھنے کی جستجو مانند نہیں پڑ چکی تھی۔ میں نے دفتر میں ایک ساتھی سے گزارش کی کہ وہ اردو سیکھنے میں میری مدد کرے۔ انہوں نے اتنی مدد تو کی کہ جامع مسجد سے اردو کا ایک قاعدہ لاکر دیا۔ خیر کئی برسوں کے بعد جب میں نے سکھوں کی تاریخ اور پنجاب کی تقسیم پر تحقیق شروع کی، تو معلوم ہوا کہ اس کے سبھی ماخذ تو اردو میں ہیں۔ میرے سامنے دستاویزات کا ذخیرہ ہوتا تھا۔ مگر افسوس ہوتا تھا کہ میں ان سے استفادہ حاصل نہیں کر پاتی تھی۔ کسی کو ترجمے کے لیے رکھنا تو ایک بات ہے، مگر ان دستاویزات سے خود استفادہ حاصل کرنا، تجزیہ کرنا اور ان سے نتیجہ اخذ کرنا براہ راست مطالعے سے ہی ممکن ہے۔

جیسا کہ کہاوت ہے، "جہاں چاہ، وہاں راہ۔"  اگر دل سے کچھ حاصل کرنے کی خواہش ہو، تو قدرت بھی مددگار ہو جاتی ہے، میرے ایک سینیئر ساتھی نے جو میری اس مشکل سے واقف تھے، مجھے مرکزی حکومت کے ادارے  قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈپلومہ کورس کے بارے میں بتایا۔ اس ادارے کے دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں متعدد مراکز ہیں۔ میں نے معلوم کیا کہ ان کا اردو سکھانے ایک مرکز میرے گھر سے بس ایک کلومیٹر دور ہی تھا، جس کے کرتا دھرتا ایک مولوی صاحب تھے۔

مولوی سلیم صاحب نے میری خاصی آؤ بھگت کی وہ میرے اردو سیکھنے کے جذبے سے متاثر ہوئے۔ چونکہ اخباروں میں کام کرنے کے او ر خاص طور پر رپورٹروں کے لیے کوئی باضابطہ شیڈول نہیں ہوتا ہے، بس بریکنگ نیوز کے لیے لائن حاضر ہونا پڑتا ہے، اس وجہ سے میں اس ادارے کا ٹائم ٹیبل فالو نہیں کر پاتی تھی۔ اس لیے کئی کلاسز چھوٹ جاتی تھیں۔ مگر بھلا ہو مولوی صاحب کا، انہوں نے مجھے اردو سکھانے کے لیے اپنا ٹائم ٹیبل ترتیب دیا ور اس کو میرے شیڈول کے حساب سے متعین کیا۔

میں کوئی اچھی اسٹوڈنٹ نہیں تھی۔آفس کے کام کا بوجھ، دہلی جیسے شہر میں جہاں ہر پل سیاست کروٹ لیتی ہو، سیاسی رپورٹنگ کرنا اور پھر گھر یلو ذمہ داریاں نبھا کر اپنے آپ کو اچھی بیوی اور بہو ثابت کروانے کی کوششوں میں میرا ہوم ورک چھوٹ جاتا تھا۔ مگر مولوی صاحب بڑے صابر و شاکر قسم کے شخص تھے۔ وہ تنبیہ ضرور کرتے تھے، اور ان کی ڈانٹ میں ایک طرح کی شفقت چھپی ہوتی تھی، جو پرانے زمانے کے اساتذہ کا خاصا ہوتا تھا۔ مگر اس ایک سال کے ڈپلومہ کو مکمل کرنے میں، مجھے دو سال کا عرصہ لگا۔

 مولوی صاحب اگر خود مصروف ہوتے تو ان کا بیٹا وسیم یا ان کی بہو تبسم مجھے اردو سکھانے کا چارج سنبھالتی۔ ان کا گھر اور اردو سکھانے کا مرکز مسلمان اکثریتی علاقے میں ایک مسجد کے ساتھ ہی تھا۔ میں جب اپنا بیگ، کتابیں و قلم لے کر ان کے دروازہ پر پہنچتی، تو ان کے اہل خانہ عزت کے ساتھ مجھے بٹھاتے۔ وہ بڑے فخر سے ساتھ اپنے پڑوسیوں سے میرا تعارف کرواتے ہوئے کہتے کہ یہ لڑکی ایک سکھ اور صحافی ہے، پر محب اردو ہے۔ مجھے ان کے اس طرح کے تعارف کروانے کی وجہ اس وقت سمجھ میں آئی، جب میں نے امتحانی مرکز میں بس وہ مسلمان بچے ہی پرچہ دیتے ہوئے دیکھے، جو روایتی اسکولوں میں پڑھ نہیں پاتے تھے۔وہ مجھے کسی دوسری دنیا کی ہی مخلوق سمجھتے تھے۔

مجھے یہ تحریر کرتے ہوئے دکھ ہوتا ہے کہ ہم نے اردو زبان کو مذہب کا جامہ پہنا کر اس کو مسلمانوں کی زبان بنا کر رکھ دیا ہے۔ اور زیادہ دکھ تو اس بات کا ہے میری اپنی برادری نے اس زبان سے کنارہ کشی  اختیار کر لی ے۔ دسویں اور آخری سکھ گرو گورو گوبند سنگھ جی تو فارسی زبان کے ایک معروف شاعر بھی تھے۔مغل بادشاہ اورنگ زیب کے نام ان کا خط جو ظفرنامہ کے نام سے مشہور ہے، فارسی شاعری کا کلاسیک کلام ہے۔ افسوس کہ تقسیم ہند کے بعد زبان کے جھگڑوں میں سکھ بھی بہہ گئے، وہ اپنی وراثت کو بچانے کے بجائے پروپگنڈہ کا شکار ہو گئے۔

چند سال قبل، پنجاب یونیورسٹی، چندی گڑھ میں ایک کانفرنس کے مقررین نے بھی پنجاب میں اردو کی بحالی پر زور دیا۔ ان کا استدلال تھا کہ سکھ ثقافت اور پنجابیت کا مطالعہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس کے اردو، فارسی اور گرمکھی دستاویزات کا مجموعی طور پر مطالعہ نہیں کیا جائے۔جنوبی ایشیا کے کسی بھی ملک میں آج بھی رہبر ی اور رہنمائی کا تاج اردو کے ہی سرپر ہے۔ بھارت کے متعدد علاقو ں کا دورہ کرنے کے بعد مجھے ادراک ہوا  کہ گر کہیں بھی آپ مفہوم ادا کرنے سے قاصر ہوں، تو اردو کے الفاظ ایک دوسرے کے احساسات اور جذبات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ دوسری بات ہے کہ بھارت میں اس کو ہندی کا لبادہ پہنا کر اس کے خلاف ایک منظم تحریک شروع کی گئی۔ اردو کا قتل ناحق بالی وڈ کی فلموں کے ذریعے اس وقت شروع کیا گیا جب بیشتر فلموں کا ٹائٹل جو اردو میں ہوتا تھا، اچانک غائب کر دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ بھارت میں بالی وڈ کا دائرہ اثر انتہائی وسیع ہے۔ فلم بینوں نے اس تبدیلی کو خاموشی سے قبول کیا اور خاموش رہے۔

دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب ڈرامے اور سیریل بنانے والے درجنوں چینلوں کو شدھ ہندی بولنے، ہندو مذہب کی تشیہر کرنے اور ہندو کتھاییں، رامائن اور مہا بھارت جیسے سیریلز کو دکھانے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ تیسرا وار 24 گھنٹے چلنے والے سینکڑوں نیوز چینلوں سے کروایا گیا۔اب قوانین کے ذریعے اردو کو ختم کرنے کا ایک نیا سلسلہ چل رہا ہے، جس کی شروعات پہلے قومی سطح پر ہندی زبان کو مسلط کرنے اور  جموں و کشمیر میں اردو زبان کی حثییت ختم کرنا تھا۔ اس کا مقصد ہندوتوا کے ایجنڈے کے تحت مسلمانوں سے جڑی تمام علامات کو ختم کرنا ہے۔

یہ سچ ہے کہ حکومت کو تو آج کل مذہبی منافرت پھیلانے سے ہی فرصت نہیں ملتی ہے، مگر ہمیں بھی اپنے دامن میں جھانک لینا چاہیے۔ آخر ہم اردو کو بچانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو اردو پڑھانے میں کوئی دلچسپی لے رہے ہیں؟ اس بات کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کروڑوں کی زبان کو ختم کرنا آسان نہیں ہے۔

بقول داغ دہلوی

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

 

ملتے جلتے مندرجات