اردن اسرائیل کو لیز پر دیے گئے علاقے واپس لے گا، شاہ عبداللہ | حالات حاضرہ | DW | 10.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اردن اسرائیل کو لیز پر دیے گئے علاقے واپس لے گا، شاہ عبداللہ

اردن نے پچیس برس قبل اسرائیل کو لیز پر دیے گئے اپنے دو علاقے اپنی مکمل عمل داری میں لینے کا اعلان کیا ہے۔ الغمر اور الباقورہ نامی اردنی علاقے ستر برس سے اسرائیلی کنٹرول میں ہیں۔

اسرائیل سے اپنے علاقے واپس اردنی تصرف میں لینے کا اردن کے یہ اعلان آج اتوار کے روز شاہ عبداللہ ثانی نے نئی ملکی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سن 1994 میں اسرائیل اور اردن کے مابین طے پانے والی تاریخی امن ڈیل کے تحت الغمر اور الباقورہ نامی اردنی علاقے اسرائیل کو پچیس برس کے لیے لیز پر دیے گئے تھے۔ تاہم اس تاریخی امن معاہدے کے پچیس برس بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات سردمہری کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ علاقے ستر برس سے اسرائیل کے تصرف میں ہیں اور امن معاہدے میں انہیں اسرائیل کو لیز پر دیے جاتے وقت یہ امکان بھی رکھا گیا تھا کہ دونوں علاقے مزید پچیس برس کے لیے اسرائیل کو لیز پر دے دیے جائیں گے۔

شاہ عبداللہ ثانی نے رواں برس کے شروع ہی میں عندیہ دیا تھا کہ ان علاقوں کی لیز نہیں بڑھائی جائے گی تاہم اس معاملے میں ابہام برقرار رہا تھا اور اسرائیل کو امید تھی کہ اس مسئلے کا حل نکال لیا جائے گا۔

شاہ عبداللہ نے آج نئی ملکی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ''میں دونوں علاقوں، غمر اور الباقورہ کی امن معاہدے کے تحت(اسرائیل) شمولیت کے خاتمے اور ان علاقوں کے ایک ایک ایک انچ پر اپنی مکمل عملداری کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘

شاہ عبداللہ کا یہ اعلان اسرائیل اور اردن کی اس باہمی دوستی میں ایک نئی دراڑ ثابت ہو گا، جس کا آغاز سن 1994 کے تاریخی امن معاہدے سے ہوا تھا۔ چھبیس اکتوبر سن 1994 میں جب اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابین اور اردن کے شاہ حسین نے امن معاہدے پر دستخط کیے تو اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن بھی تقریب میں موجود تھے۔ تینوں رہنماؤں نے پرجوش تقاریر کی تھیں اور امن معاہدے کو خطے کے اچھے مستقبل اور بہترین باہمی تعلقات کی کنجی قرار دیا تھا۔ اسرائیل اور مصر کے مابین معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ کسی دوسرے عرب ملک اور اسرائیل کے مابین ایسا معاہدہ طے پایا تھا۔

USA 1995 Erklärung zum Nahostkonflikt | König Hussein von Jordanien & Bill Clinton & Jitzchak Rabin

26 اکتوبر سن 1994 میں امریکی صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابین اور اردن کے شاہ حسین نے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے

اب بھی یہ معاہدے دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اسی کے تحت دونوں ممالک قریبی سکیورٹی تعاون اور مشترکہ معاشی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب کوئی پیش رفت نہ ہونے کے سبب اب تک اس معاہدے کے بالخصوص اردنی شہریوں تک ثمرات قریب نہ ہونے کے برابر ہی پہنچ پائے ہیں۔

مشرقی یروشلم میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کا انتظام اسی امن معاہدے کے تحت اردن کے پاس ہے لیکن حالیہ برسوں کے دوران یروشلم کے حوالے سے اسرائیلی پالیسی بھی دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کا سبب بنی ہے۔

'امن کا جزیرہ‘

امن معاہدے کے تحت اردن لیز کی مدت ختم ہونے سے ایک برس قبل نوٹس دے کر تجدید سے انکار کر سکتا ہے۔ گزشتہ برس اردن نے اس بات کا اشارہ دے دیا تھا۔ الغمر اور الباقورہ زرعی علاقے ہیں اور اسرائیلی کسان ان علاقوں میں کاشتکاری کرتے ہیں۔

 دریائے اردن کے کنارے الغمر کے علاقے اسرائیلیوں کے پسندیدہ سیاحتی مقامات بھی بن چکے ہیں۔ چھوٹے پارکوں اور تاریخی پاور اسٹیشن کی باقیات کے علاوہ اس علاقے میں ایک جگہ کو 'امن کا جزیرہ‘ بھی کہا جاتا ہے، جو ایک ایسا اردنی علاقہ ہے جہاں اسرائیلی شہری پاسپورٹ دکھائی بغیر سفر کر سکتے ہیں۔

تاہم اسی علاقے میں سن 1997 میں ایک تکلیف دہ واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ تب ایک اردنی فوجی نے اسرائیلی ہجوم پر فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں اسکول کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے گئی ہوئی سات اسرائیلی طالب علم بچیاں ہلاک ہو گئی تھیں۔

اس واقعے کے بعد اردن کے شاہ حسین ہلاک ہونے والی بچیوں کے اہل خانہ سے معافی مانگنے اسرائیل گئے تھے اور اسی وجہ سے ان کی وفات کے بعد اب بھی اسرائیل میں شاہ حسین کو اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔

ش ح / ع ا (ڈی پی اے، اے پی، روئٹرز)

DW.COM