اراکین اسمبلی تنخواہوں و مراعات میں اضافے کے خواہشمند | حالات حاضرہ | DW | 20.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اراکین اسمبلی تنخواہوں و مراعات میں اضافے کے خواہشمند

پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعرات کو ایک رپورٹ منظور کی گئی، جس سفارش کی گئی ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں تین گناہ اضافہ کیا جائے جب کہ ان کی مراعات میں بھی بے پناہ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس منظوری پر پاکستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ آج یہ خبر پاکستان کے تقریبا تمام اخبارات میں شہ سرخیوں کی زینت بنی جب کہ ٹی وی چینلز میں بھی اس پر بحث کی گئی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس اضافے پر خوب تبصرے ہورہے ہیں۔

یہ رپورٹ قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے Rules of Procedures and Privileges نے مرتب کی تھی۔ پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ کو ابھی تقریبا بہتر ہزار روپے ماہانہ تنخواہ فی کس ملتی ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اسے دو لاکھ روپے کر دیا جائے۔ اگر اس رپورٹ کو کسی مرحلے پر قانون بنا دیا جاتا ہے تو تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کے بعد ایک رکن اسمبلی کو ماہانہ سرکاری خزانے سے چار لاکھ روپے کے قریب دیے جائیں گے۔

خانیوال سے رکن قومی اسمبلی اسلم بودلہ، جو اس رپورٹ کی حمایت میں پیش پیش تھے، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ قومی اسمبلی میں اس رپورٹ کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ ہماری تنخواہ کوئی بہتر ہزار روپے کے قریب بنتی ہے۔ ہمارا عہدہ بائیس گریڈ کے وفاقی سیکریڑی کے برابر کا ہے۔ اسے تقریبا چار لاکھ کے قریب تنخواہ ملتی ہے۔ اسلام آباد میں قطعہ اراضی ملتا ہے اور اس کے علاوہ اس کی اور بھی بہت سی مراعات ہیں۔

اسلم بودلہ کے مطابق، ’’ہماری تنخواہیں اراکینِ بلوچستان اسمبلی سے بھی کم ہیں۔ لہذا میں نے اس رپورٹ کی بھر پور حمایت کی۔ اس کو قومی اسمبلی نے منظور کر کے وزارت خزانہ کو بھیج دیا ہے۔ اب دیکھیں کہ وہ بجٹ بناتے وقت اس پر توجہ دیتے ہیں یا نہیں۔ سینیٹ کے چیئرمین نے اس رپورٹ کو ایجنڈے میں ہی شامل نہیں کیا، لیکن یہ قومی اسمبلی میں منظور ہوچکی ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں اسلم بودلہ نے کہا کہ کرپشن کی باتیں صرف سیاست دانوں کو بدنام کرنے کے لیے ہیں، ’’تنخواہیں بڑھنے یا نہ بڑھنے کا کرپشن سے کوئی تعلق نہیں۔ کون سا رکن کرپشن کر رہا ہے اور وہ کیسے کرپشن کر سکتا ہے۔ ترقیاتی فنڈز براہ راست اداروں کے پاس جاتے ہیں۔ نوکریاں ہم دے نہیں سکتے ، تو ہم کرپشن کہاں سے کریں گے۔‘‘
سینیٹر تاج حیدر نے بھی مجوزہ اضافے کا دفاع کیا۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جائیں اور دیکھیں کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کتنی تنخواہ لے رہے ہیں۔ میں جب بیس سال کا تھا اس وقت میں بینک منیجر تھا۔ بتیس سال کی عمر میں میرے پاس مرسیڈیزتھی اور اب میرے پاس مہران کار ہے۔‘‘

تاج حیدرکے بقول، ’’ میری تنخواہ ٹی وی اینکرز کی تنخواہ کے مقابلے بہت ہی کم ہے۔ میں سات کمیٹیوں کا رکن ہوں اور دو کا سربراہ ہوں۔ روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کام کرتا ہوں۔ کئی رپورٹیں مرتب کرتا ہوں۔ ایسی رپورٹیں اگر کسی کمپنی کے لیے کروں تو بہت بھاری معاوضہ ملے۔ لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ صرف اراکین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں بلکہ ہمارے ملک میں بسنے والے کرڑوں محنت کشوں کا معیار زندگی بھی بہتر کیا جائے اور ان کو زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں۔‘‘

پشاور سے رکن قومی اسمبلی حامد الحق، جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ میرا تعلق مڈل کلاس سے ہے۔ میں ایک مشترکہ خاندانی نظام میں رہتا ہوں ورنہ اس تنخواہ میں میرا گزارا بالکل ممکن نہیں۔ پختونوں میں مہمان نوازی کا کلچر ہے۔ ہمارے پاس لوگ اگر میلوں دور سے آتے ہیں تو ہم ان کی خاطر تواضح کے بغیر انہیں نہیں بھیج سکتے۔ میرا حلقہ تقریبا بیس سی چالیس کلو میٹر پر محیط ہے۔ روزانہ درجنوں تقریبات ہوتی ہیں، جس میں ہمیں خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اسمبلی کے مڈل کلاس اراکین کے لیے اس تنخواہ میں گزارہ کرنا بہت مشکل ہے۔‘‘

نیشنل ٹرید یونین فیڈریشن کے رہنما ناصر منصور نے اس اضافے کو ظلم سے تعبیر کرتے ہیں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مزدور کی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، تو یہ اسمبلی بہانے بناتی ہے اور اس میں اگر کوئی اضافہ کرتی بھی ہے تو بہت معمولی ہوتا ہے۔ یہ ججوں، جرنیلوں اور سرکاری افسران کی تنخواہ بڑھانے میں کوئی وقت نہیں لگاتے اور اب انہوں نے بڑی ڈھٹائی سے اپنی بھی تنخواہوں میں اضافے کی تیاری کرلی ہے۔ اس سے بڑی بے حسی اور کیا ہوگی۔ لوگ یہاں بھوک سے مر رہے ہیں۔ چھ کروڑ انسان غربت کی لائن سے نیچے رہے رہے ہیں اور یہ اراکین ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی تنخواہیں بڑھا رہے ہیں۔ یہ بہت قابلِ مذمت بات ہے۔‘‘

اشتہار